پشاور ہائیکورٹ میں اہم پیش رفت، عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں سزا پانیوالے دو وکلاء کی سزا معطل، اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ جاری
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں سزا پانے والے دو وکلاء کی سزا معطل کر دی ہے۔ جسٹس فہیم ولی نے دونوں وکلاء کی اپیل پر سماعت کی، جس دوران وکلاء کی جانب سے بیرسٹر عامر اللہ اور صدر پشاور ہائی کورٹ بار، امین الرحمان عدالت میں پیش ہوئے۔
پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ چارسدہ کی عدالت نے جواد خان ایڈووکیٹ اور سکندر حیات ایڈووکیٹ کو عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ دونوں وکلاء کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 228 اور کوڈ آف کریمنل پروسیجر کی دفعہ 476 کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔
عدالت نے اپیل پر سماعت کے بعد دونوں وکلاء کی سزا کو معطل کر دیا، تاہم وکلاء کے خلاف مقدمے کی دیگر قانونی کارروائی جاری رہنے کا امکان ہے۔ عدالت نے وکلاء کی جانب سے پیش کی گئی دلائل اور قانونی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا۔
پشاور ہائی کورٹ کا یہ اقدام عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کے خلاف وکلاء کی اپیلوں پر سماعت کے دوران اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





