27ویں آئینی ترمیم کے بعد کوئی جج کسی کے اشارے پر وزیراعظم نہیں ہٹا سکے گا، ایمل ولی خان

الف خان شیرپاو

چارسدہ (پختون ڈیجیٹل) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ تمام دستیاب وسائل کے باوجود خیبر پختونخوا اور بالخصوص پشتون خطے کے بچے محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی پالیسیاں نوجوانوں کو قلم کی بجائے بندوق اٹھانے پر مجبور کر رہی ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہے۔

چارسدہ میں آل پاکستان اسفندیار ولی خان فٹ بال ٹورنامنٹ کے فائنل سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ جن علاقوں میں نہ اسکول ہیں نہ کھیل کے میدان، وہاں ریاست کو خود سوچنا ہوگا کہ وہ آنے والی نسل سے کیا توقع رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی ہر اس اقدام کی حمایت کرے گی جو تعلیم، کھیل اور نوجوانوں کے مواقع بہتر بنانے میں مددگار ہو۔

انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد مستعفی ہونے والے ججز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہی جج ہیں جنہوں نے 2002 کے عام انتخابات میں اے این پی کے خلاف فیصلے دیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کو عدالتی جواز فراہم کرنے والوں میں بھی یہی عناصر شامل تھے، تاہم نئی آئینی ترمیم نے اب کسی جج کو وزیراعظم یا صدر کو اشاروں پر گھر بھیجنے سے روک دیا ہے۔

ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ تعلیم، این ایف سی، آبادکاری اور اٹھارویں ترمیم پر اے این پی نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور انہی اعتراضات کے دور ہونے کے بعد پارٹی نے 27ویں ترمیم کی حمایت کی۔

انہوں نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدامنی کے خاتمے اور عوامی فلاح کے بجائے ایک قیدی کی رہائی ان کی اولین ترجیح بن چکی ہے، جبکہ صوبے میں ترقی اور امن کے لیے کوئی جامع منصوبہ موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پولیس نےفرخ کھوکھر کو رہا کردیا

مرکزی صدر نے کہا کہ سب کو معلوم ہے دہشت گردوں کی آبادکاری کس نے کی اور کن حلقوں نے خطرناک عناصر کو دوبارہ بسایا۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کی راہ تب ہی ہموار ہوسکتی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے دونوں جانب حقیقی عوامی نمائندگی سامنے آئے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا تناؤ ایک بڑی اور تباہ کن جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے، جس کے سنگین اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔

تقریب کے اختتام پر ایمل ولی خان نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ تقریب میں اے این پی کے رہنما سید معصوم شاہ باچا، شکیل بشیر خان، شہزاد الدین، گوہر ایوب، سابق صوبائی وزیر اشرف داوڑ اور دیگر مقامی رہنما بھی شریک تھے۔

Scroll to Top