پشاور (پختون ڈیجیٹل) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی صدارت میں ضلع پشاور کے موجودہ اور سابق اراکین اسمبلی سمیت سینئر قیادت کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کے میگا پراجیکٹس اور دیگر اہم مسائل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ پشاور کی ترقی اور عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے 100 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر جلد گرینڈ میٹنگ بلائی جائے گی۔
جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے شہر کی ترقی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پشاور نہ صرف صوبے کا دارالحکومت ہے بلکہ خیبر پختونخوا کا چہرہ بھی ہے۔
اجلاس میں 7 دسمبر کو پشاور میں منعقد ہونے والے جلسے، جس کا عنوان عمران کی خاطر زندہ ہے پشاور رکھا گیا ہے، کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ جلسہ جمہوری اداروں کی مضبوطی، عدلیہ کی آزادی اور عمران خان کی رہائی کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
جبکہ دوسری جانب پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ آج کا دن پارٹی کے لیے انتہائی دردناک اور غم ناک ہے کیونکہ پرامن کارکنوں پر تشدد کیا گیا اور گولیاں چلائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی ہر منگل اسلام آباد پہنچ کر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور جو نہیں پہنچے گا اسے پارٹی ملامت کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں : 27ویں آئینی ترمیم کے بعد کوئی جج کسی کے اشارے پر وزیراعظم نہیں ہٹا سکے گا، ایمل ولی خان
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں کہ پی ٹی آئی کے کارکنان پر تشدد کیا گیا۔ طاقتور حلقے نہیں چاہتے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی ہو اور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ کو مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے، لیکن پارٹی آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا حق استعمال کرے گی۔
سہیل آفریدی نے یاد دہانی کرائی کہ 9 مئی اور 26 نومبر کو پی ٹی آئی کارکنان پرامن تھے اور آئندہ بھی پرامن رہیں گے، تاہم کچھ عناصر انتشار چاہتے ہیں۔





