ہم نے ہر در کھٹکھٹایا مگر کچھ نہ ہوا، اب نئی مذاکراتی ٹیم فیصلہ کریگی، بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہر در پر دستک کے باوجود پیشرفت نہ ہو سکی، اب نئی مذاکراتی ٹیم رہنمائی کرے گی

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پارٹی نے ہر سطح پر مذاکرات کی کوشش کی، لیکن تمام کوششوں کے باوجود کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ اب چیئرمین عمران خان نے نئی مذاکراتی ٹیم کو بااختیار بنادیا ہے جو آئندہ حکمتِ عملی کا فیصلہ کرے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہاہم نے ہر در کھٹکھٹایا مگر کچھ نہ ہو سکا۔ ہم نے پوری لگن سے مذاکرات کیے، مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اب عمران خان نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دے دیا ہے۔ اگر وہ مجھ سے رائے لیں گے تو ضرور مشورہ دوں گا۔

سیاسی اتحاد برقرار، جدوجہد جاری رہے گی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا سیاسی اتحاد محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کے ساتھ مضبوط ہے اور یہ اتحاد تحریک تحفظ پاکستان کے پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔

مولانا کو شامل کرنے کی کوشش کی، لیکن کامیابی نہ ملی چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مولانا ایک دانا اور تجربہ کار سیاستدان ہیں، پارٹی نے انہیں اتحاد میں شامل کرنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ راضی نہ ہوئے۔

انہوں نے واضح کیا’’میرا نہیں خیال اب وہ ہمارے ساتھ آئیں گے، لیکن ہماری کوشش رہے گی کہ انہیں آن بورڈ کیا جائے۔‘‘

آئینی ترامیم پر تحفظات اور آزاد عدلیہ کا مطا لبہ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ہے، کیونکہ پارٹی ملک میں مکمل آزاد عدلیہ چاہتی ہے۔

انہوں نے عمران خان کی قانونی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’’عمران خان کو آخری سزا 16 جنوری کو سنائی گئی۔ جوڈیشل پالیسی کے مطابق 35 دن میں فیصلہ ہونا چاہیے تھا، مگر 10 ماہ گزرنے کے باوجود ان کا کیس لگ ہی نہیں رہا۔‘‘

تحریک کسی صورت نہیں رکے گیانہوں نے کہا کہ سیاسی دباؤ، مقدمات اور ناکام مذاکرات کے باوجود پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، کیونکہ پی ٹی آئی کا مقصد ملک میں شفافیت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 4 دسمبر کو این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کے حقوق کا معاملہ اٹھائیں گے، سہیل آفریدی

Scroll to Top