احتساب عدالت نے غیر قانونی مائننگ میں ملوث ٹھیکیدار کے اثاثے منجمد کر دیے

احتساب عدالت نے غیر قانونی مائننگ سکینڈل میں ملوث ٹھیکیدار زرگل خان کے کروڑوں روپے کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

یہ حکم نیب کی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت دائر درخواست پر احتساب جج حامد مغل کی سماعت کے بعد دیا گیا۔

سماعت کے دوران سینئر پراسیکیوٹر نیب حبیب اللہ بیگ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم زرگل خان دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر کاکول کے گزارہ جنگلات میں غیر قانونی مائننگ کا مرکزی کردار رہا۔

نیب کے مطابق ملزم نے 2010 سے جولائی 2025 تک ایک لاکھ 41 ہزار 869 میٹرک ٹن فاسفیٹ نکالا اور اس غیر قانونی سرگرمی سے قومی خزانے کو 643.7 ملین روپے کا نقصان پہنچایا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تحقیقات کے دوران ملزم کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے بھی شواہد سامنے آئے ہیں، زرگل خان کے نام پر ایبٹ آباد میں مختلف آٹھ جگہوں پر پلاٹس اور تین قیمتی گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔

نیب کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ملزم کے اثاثے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 اور نیب آرڈیننس کے تحت منجمد کیے جائیں، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزم کی جائیداد اور دیگر اثاثے منجمند کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: اپر کوہستان مالیاتی سکینڈل میں گرفتار نجی بینک ملازم مزید ریمانڈ پر نیب کے حوالے

ادھر اپر کوہستان کرپشن سکینڈل کا کیس بھی چل رہا ہے ، احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپر کوہستان سے تعلق رکھنے والے نجی بینک کے ملازم خالد احمد کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے۔

تفتیشی افسران کے مطابق ملزم خالد احمد داسو برانچ میں نجی بینک کا ملازم ہے اور اس نے ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی کے نام پر اکاؤنٹ کھولا تھا، جس میں تقریباً 55 ملین روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی۔

تفتیشی افسران نے بتایا کہ ملزم کو کئی بار تفتیش کے لیے طلب کیا گیا لیکن وہ قصداً شامل نہیں ہوا۔

نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کو مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر حوالہ کیا جائے جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزم کو سات دن کے لیے نیب کے حوالے کر دیا۔

Scroll to Top