عوامی نیشنل پارٹی نے 28 ویں آئینی ترمیم کا ڈرافٹ جاری کر دیا

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے 28ویں آئینی ترمیم کا اپنا ڈرافٹ جاری کر دیا ہے جس میں مختلف ترامیم اور مطالبات شامل ہیں۔

اے این پی نے واضح کیا ہے کہ وہ 28ویں ترمیم سے مشروط حمایت کرے گی بشرطیکہ 27ویں ترمیم کے وعدے پورے کیے جائیں۔

ترجمان اے این پی کا کہنا ہے کہ پارٹی اٹھارہویں ترمیم، این ایف سی اور صوبائی خودمختاری میں کسی بھی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کرے گی اور صوبائی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ڈرافٹ کے اہم نکات میں ہائیڈل پاور پیدا کرنے والے صوبوں کے لیے بجلی پر آئینی ریلیف، 500 یونٹس تک گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 10 روپے فی یونٹ مقرر کرنا اور تمباکو کاشتکاروں کے مکمل تحفظ کے لیے اقدامات شامل ہیں۔

ڈرافٹ میں صوبے کی تاریخی شناخت پختونخوا کی بحالی بھی شامل ہے اور اے این پی نے صوبے کے نام کو تسلیم کرنے کے مطالبے کو دہرایا ہے۔

اے این پی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تمباکو کے کسانوں پر عائد تمام ٹیکس فوری ختم کیے جائیں گے اور خام تمباکو پر صنعتوں سے وصول شدہ ٹیکس اسی صوبے کو دیا جائے گا جہاں پیداوار ہوتی ہے۔

اے این پی نے مقامی حکومتوں کے مستقل قیام کی آئینی ضمانت دینے پر بھی زور دیا ہے اور کہا ہے کہ آرٹیکل اے140 کے تحت ہر چار سال بعد بلدیاتی انتخابات یقینی بنائے جائیں اور کسی اتھارٹی کو بلدیاتی ادارے معطل یا تحلیل کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: 28ویں آئینی ترمیم :رانا ثنااللہ کا بڑا بیان سامنے آگیا

پارٹی کا موقف ہے کہ آئینی ترمیم کا مقصد صوبائی حقوق اور وفاقی جمہوریت کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے اور اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں اے این پی پارلیمان اور عوام میں بھرپور مزاحمت کرے گی۔

Scroll to Top