وادی تیراہ میں انتظامیہ، عدالتیں اور حکومتی رٹ نہیں ،ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاہے کہ رواں سال پورے پاکستان میں دہشتگردی کے 4 ہزار 729 واقعات ہوئےجن میں سے 3 ہزار 357 واقعات صرف خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے افغان بارڈر پر ایف سی بیٹھی ہے تو دہشتگردی کنٹرول کیوں نہیں ہوتی۔ کیا پنجاب اور سندھ کے بارڈر کے قریب کو ئی گاؤں ہیں جن آباد دونوں اطراف تقسیم ہوں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ افغان بارڈر پر 29 قبیلے ہیں جن کے گاؤں آباد ہیں، وہاں نگرانی کے لئے مزید چوکیاں اور ڈرون نگرانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ آپ خیبر وادری تیرہ میں جائیں وہاں کوئی انتظامیہ نہیں، نہ ہی عدالتیں ہیں، ایسے علاقے جہاں انتظامیہ اور رٹ نام کی کوئی چیز نہ ہو وہاں دہشتگردی زیادہ ہوتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ افغان بارڈر سے پیچھے کا علاقہ کیا فوج کی ذمہ داری ہے؟ حکومت کہاں ہے؟ ساڑھے 4 لاکھ نان کسٹم پیڈ گاڑی پھر رہی ہے وہ پکڑنا کس کی ذمہ داری ہے؟ کس نے روکنا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دہشتگردی ایک طرز زندگی ہے تو وہ ہم درست کر دیں گے، ہم حق پر ہیں اور ہم غالب آئیں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں افغانیوں سے مسئلہ نہیں ہمیں افغان رجیم سے مسئلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی صحت سے متعلق افواہوں پر وضاحت

Scroll to Top