اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی قیادت بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ایسی ملاقات چاہتی ہے جس میں سیاسی معاملات پر گفتگو ہو، جبکہ جیل انتظامیہ کے مطابق ملاقاتیں صرف قوانین اور جیل مینول کے تحت کرائی جاتی ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملاقاتوں کے حوالے سے حکومت نہیں بلکہ سپرنٹنڈنٹ جیل بااختیار ہوتا ہے، اور فیصلے مکمل طور پر پریزن رولز کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ اس سے پہلے بھی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ یہی اصول اپنایا گیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو کئی ماہ تک کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تھی، نوازشریف کی ملاقاتیں بھی طویل عرصے تک محدود رہی تھیں اور ان ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو نہیں ہوتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل میں صرف ایک قیدی نہیں بلکہ سیکڑوں قیدی موجود ہیں جن کی سیکیورٹی بھی اتنی ہی اہم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے اور ان کی فیملی اور وکلا سے ملاقاتیں معمول کے مطابق ہوتی رہی ہیں۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی ہر ملاقات میں سیاسی معاملات ہی زیرِ بحث لاتی ہے، جبکہ قاعدے کے مطابق ملاقاتیں غیر سیاسی ہونی چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں : موٹروے ایم ون صوابی سے برہان تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند
انہوں نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو واٹس ایپ کال کی سہولت بھی دی گئی تھی، جبکہ عام قیدیوں کے لیے ایسی کوئی سہولت موجود نہیں۔
اگر عدالت حکم دے گی تو ان کے بیٹوں سے فون پر بات کرائی جاسکتی ہے، لیکن سپرنٹنڈنٹ جیل از خود ایسا نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے مگر اسے آئین و قانون کے دائرے میں کیا جانا چاہیے، اور ریاست شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔





