اسلام آباد: بھارتی جیلوں سے رہائی پانے والے تین پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
پاکستانی ہائی کمیشن کے ترجمان کے مطابق رہائی پانے والے شہریوں کے نام اصغر علی، رمضان اور محمد ادریس ہیں، جو واہگہ اٹاری سرحد کے ذریعے پاکستان آئے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی ہائی کمیشن بھارت میں موجود تمام پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے تاکہ باقی قیدی بھی جلد اپنے اہل خانہ سے مل سکیں۔
واہگہ اٹاری پر پاکستانی ہائی کمیشن کی ٹیم نے قیدیوں کا استقبال کیا اور ان کی وطن واپسی کے عمل کو سہولت فراہم کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی ہائی کمیشن بھارت میں موجود شہریوں کے حقوق اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مستقل رابطے میں ہیں۔
اس پیش رفت کو دوطرفہ تعاون اور قیدیوں کے مسائل کے حل کے لیے جاری کوششوں کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شہریوں کے اہل خانہ نے وطن واپسی پر خوشی کا اظہار کیا اور حکام کی کوششوں کو سراہا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہر وقت اپنے شہریوں کی حفاظت اور حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کرتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں : دنیا بھر میں پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات سینیٹ کمیٹی میں پیش کردی گئی
جبکہ دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف 61 ممالک میں اس وقت 21,647 پاکستانی قید ہیں۔
ایڈیشنل سیکریٹری وزارت داخلہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایک پڑوسی ملک نے پاکستان کے نظام میں مداخلت کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر پاسپورٹس بنوائے، جس میں ممکنہ کرپشن کے امکانات بھی شامل ہیں۔
چیئر پرسن کمیٹی ثمینہ ممتاز نے انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس معاملے پر مناسب آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ غیر قانونی راستوں سے بیرون ملک جانے کے خطرات سے ناواقف ہیں۔ ایئرپورٹس پر آگاہی بینرز نہ ہونا بھی ایک سنگین غفلت ہے۔
ثمینہ ممتاز نے نشاندہی کی کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ ملک کے اندر سے کام کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو مختلف جھانسوں میں پھنسا کر بیرون ملک بھیجتے ہیں۔
جعلی ڈگریاں، جعلی کورسز اور نشہ اسمگلنگ جیسے جرائم میں کئی بے خبر افراد استعمال کیے جاتے ہیں۔
سیکریٹری وزارت داخلہ نے بتایا کہ چند ماہ قبل سعودی عرب سے بڑی تعداد میں پاکستانی واپس بھیجے گئے، جن میں کچھ افغان شہری بھی پاکستانی شناخت کے ساتھ مقیم تھے۔





