عالمی دہشتگردی کے تازہ واقعات میں افغانستان کا کردار بے نقاب، بھارت کیساتھ بڑھتے تعلقات نے خطے کی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا
تفصیلات کے مطابق افغانستان کا دہشت گردی میں کردار بے نقاب، بھارت کے ساتھ بڑھتے تعلقات نے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کر دیاعالمی سطح پر حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے افغانستان کے کردار کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ بھارت کے ساتھ بڑھتے تعلقات نے جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
گزشتہ دنوں پاکستان میں دہشت گردی، امریکہ میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملے عالمی دہشت گردی کے تازہ واقعات کی کڑی ہیں، جن میں افغانستان کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ پیدا کیا ہے۔ عالمی برادری نے بھی افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس دوران بھارت افغانستان کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے، جس سے خطے کی سیاسی اور سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اکتوبر 2025ء میں بھارت کا دورہ کیا اور متعدد معاہدے کیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران پاکستان پر افغانستان کی جانب سے بلااشتعال جارحیت نے خطے میں تناؤ بڑھا دیا۔
بھارت اور افغانستان نے ایک دوسرے کے ملکوں میں اپنے سفارتخانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے تجارتی اور سفارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ تاہم، یہ تعلقات جنوبی ایشیا میں پہلے ہی نازک سیاسی توازن کو مزید پیچیدہ کر سکتے ہیں، خاص طور پر دہشت گردی اور غیر مستحکم سرحدی صورتحال کے پیشِ نظر
تجزیہ کاروں کے مطابق، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں اور بھارت کے ساتھ بڑھتے تعلقات نے خطے میں سلامتی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے لیے عالمی برادری اور خطے کے ممالک کو مشترکہ اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔





