میرے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ انہیں بطور وزیراعلیٰ ناانصافی کا سامنا ہے اور ان کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے جو ان کے منصب کے خلاف ایک غیر منصفانہ اقدام ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے نام کو اسٹاپ لسٹ میں ڈالنا حیران کن اور افسوسناک ہے، ایک آئینی وزیراعلیٰ کو اپنے ہی ملک میں اس طرح روکنا ناانصافی ہے

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختوںخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہونے والے این ایف سی اجلاس میں ہر صورت شرکت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ اپنے حقوق کے لیے پوری قوت سے جدوجہد کرے گا خاص طور پر ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے جنہیں ان کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2018 سے اب تک خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ میں اپنا حصہ نہیں ملا جبکہ وفاق پر 1 ہزار 350 ارب روپے سات سال سے واجب الادا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی جامعات میں این ایف سی سے متعلق سیمینار منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو صوبے کے حقوق سے متعلق آگاہی دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرے گی تاکہ صوبے کے حقوق کے لیے متحدہ حکمتِ عملی اختیار کی جا سکے۔

سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن این ایف سی سمیت صوبے کے حقوق کے لیے سب کو ایک ہو کر لڑنا ہو گا۔

وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو 4 نومبر سے الگ تھلگ رکھا گیا ہے اور نہ ان کی بہنوں اور نہ ہی ذاتی معالج کو ملاقات کی اجازت دی گئی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم منگل کے روز اڈیالہ جیل جانے کے باوجود اراکین اسمبلی کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ان کی جماعت نے صوبے میں تین بار حکومت قائم کی جو عوام کے اعتماد کی واضح دلیل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر خیبرپختونخوا کی تبدیلی، فیصل کریم کنڈی کا مؤقف سامنے آ گیا

انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی بے یقینی بڑھ رہی ہے اور 25 لاکھ سے زائد افراد بیرونِ ملک جا چکے ہیں جبکہ کاروباری طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر آئندہ منگل کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو صوبائی حکومت اپنا آئندہ کا لائحہ عمل پیش کرے گی، انہوں نے کہا کہ صوبے کے لیے پیش کردہ قانون و امن کے اقدامات دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔

Scroll to Top