مردان: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ اپنا سیاسی راستہ تبدیل نہیں کریں گے اور ضرورت پڑنے پر اسلام آباد کا رخ بھی کریں گے۔
یہ بات انہوں نے خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے بابوزئی میں تکمیل حفظ القرآن کریم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہونا چاہیے تھا جہاں آزادی کے ساتھ دینی اعمال کی ادائیگی ممکن ہو اور ملک امن، بھائی چارے اور آزادی کی علامت ہو۔
یہ بھی پڑھیں : صوبے میں ترقیاتی امور کی تیز رفتار نگرانی کیلئے ہر ہفتے کابینہ اجلاس بلانے کا اعلان
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج آئین کو کھلونا بنایا گیا ہے اور عوام کی خواہشات کے بجائے بڑے لوگوں کی خواہش پر آئینی ترامیم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی مرضی پر شب خون مارا جا رہا ہے، اور 27 ویں آئینی ترمیم کے لیے لوگوں کو خرید کر دو تہائی اکثریت بنائی گئی، جس کے ذریعے یہ ترمیم منظور کی گئی۔
مولانا فضل الرحمان نے ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی رائے دی سی پیک منصوبے آج بھی بند پڑے ہیں،افغان پالیسی میں پاکستان کی سفارت کاری ناکام رہی، جنگ کی باتوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : بحرین جانے کے خواہشمندوں کیلئے خوشخبری، قواعد میں نرمی کا اعلان
امریکی صدر ٹرمپ کے ہاتھوں فلسطینیوں کے خون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض پاکستانی رہنما امن کے نوبل انعام کی بات کر رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ مسلح کارروائیوں کے حق میں نہیں ہیں، مسلح گروہوں کو چاہیے کہ جنگ ترک کریں ،کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے ملک کی معیشت کی خراب صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔





