خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی افواہیں بے بنیاد، فیصل کریم کنڈی اور پیپلز پارٹی کا دوٹوک مؤقف، کوئی مشاورت یا فیصلہ زیر غور نہیں۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق گردش کرنے والی افواہیں ایک بار پھر بے بنیاد ثابت ہو گئیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کے سیکرٹری جنرل ہمایون خان اور صوبے کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے دونوں ہی واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر نہ تو کسی سطح پر مشاورت ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی فیصلہ زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق، گورنر فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں گورنر راج کے حوالے سے خبریں صرف ٹی وی پر سنتے ہیں اور اب تک کسی بھی سرکاری یا پارٹی سطح کی مشاورت نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں گورنر راج کی شق موجود ہے، لیکن اس وقت ایسا کوئی فیصلہ زیر غور نہیں۔ گورنر کنڈی نے وضاحت کی کہ انہیں گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے خبریں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوئیں اور ہر چند ماہ بعد اس طرح کی قیاس آرائیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے خبردار کیا کہ صوبے کی مجموعی صورتحال احتجاج کی اجازت نہیں دیتی، امن و امان سمیت متعدد مسائل موجود ہیں، لہٰذا گورنر راج کی کوئی تجویز زیر بحث نہیں آئی۔
اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہمایون خان نے بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پارٹی کو گورنر راج یا گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور پارٹی ملک میں جمہوری نظام کے استحکام کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے اور حالات کے مطابق کسی بھی صوبے میں نافذ کیا جا سکتا ہے، لیکن فی الحال اس حوالے سے کوئی مشاورت یا فیصلہ موجود نہیں۔
سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اگر کسی وجہ سے گورنر کی تبدیلی کی ضرورت پیش آئی تو پہلی ترجیح موجودہ گورنر فیصل کریم کنڈی کو برقرار رکھنا ہوگی۔ ذرائع کے مطابق اگر ان کے نام پر اتفاق نہ ہوا تو امیر حیدر ہوتی، پرویز خٹک اور آفتاب شیرپاؤ کے نام زیر غور آ سکتے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق اگر سیاسی اتفاق نہ ہوا تو سابق فوجی افسران جیسے لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کے نام بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔ تاہم وزیراعظم آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے حوالے سے فی الحال کوئی معاملہ زیر غور نہیں ہے۔
یہ موقف واضح کرتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی افواہیں محض قیاس آرائیاں ہیں اور صوبائی حکومت یا پارٹی قیادت کی طرف سے کوئی ایسا فیصلہ موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے





