کوہاٹ: خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ سابقہ فاٹا کا انتظامی انضمام مکمل ہو چکا ہے، تاہم مالیاتی انضمام اب تک نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کے ساتھ ناانصافی جاری ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ 2018 سے 2025 تک خیبرپختونخوا کو جائز این ایف سی شیئر نہیں دیا گیا، اور ضم اضلاع کے مالی حقوق پورے نہیں کیے گئے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ نوجوان وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبے کے وسائل، این ایف سی شیئرز اور مسائل کے حل کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے تمام جامعات میں سیمینارز منعقد کیے جا رہے ہیں۔
ان سیمینارز کا مقصد طلباء و طالبات کو صوبے کے وسائل اور مالی تقسیم کے مسائل سے آگاہ کرنا ہے۔ شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کو این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے اعتماد میں لیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ضم اضلاع کے عوام کو این ایف سی کے بقایاجات اور مالی وسائل ابھی تک نہیں دیے گئے، اور اس تاخیر کی وجہ سے ضم اضلاع میں امن و امان کے حالات متاثر ہو رہے ہیں۔
شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ ضم اضلاع کا حصہ آبادی، غربت اور دیگر اشاریوں کی بنیاد پر الگ کرکے صوبے کو فراہم کیا جائے تاکہ پسماندگی ختم ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں ممکنہ بحران؟ اسد قیصر نے خبردار کر دیا
شفیع جان نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ کے خیبرپختونخوا حکومت پر الزامات پر بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ صوبے پر نہ ڈالے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ملک کی معیشت کو تباہ کیا اور مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ شفیع جان نے واضح کیا کہ الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ صوبے کے جائز حقوق میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پر ملک دشمن عناصر سے گٹھ جوڑ کا الزام حقیقت سے دور اور بے بنیاد ہے، اور مسلم لیگ ن کی جانب سے خوف عمران خان کی عکاسی کرتا ہے۔
شفیع جان نے یقین دہانی کرائی کہ صوبے کے تمام مکاتب فکر صوبے کے جائز حقوق کے حصول میں اپنا کردار ادا کریں گے۔





