واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے آنے والے تمام تارکین وطن کا بغور دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی شخص کو ملک سے باہر نکال دیا جائے گا۔
کیرولین لیوٹ نے واضح کیا کہ پناہ گزینوں کے تمام فیصلوں اور خصوصی امیگرینٹ ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ گزشتہ دنوں افغان شہری کی جانب سے نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے المناک واقعے کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد صدر ٹرمپ کا بڑے پیمانے پر ڈی پورٹیشن منصوبہ پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے امریکی صدر کی صحت کے بارے میں بھی بتایا کہ ٹرمپ کی مجموعی صحت بہترین ہے، ایم آر آئی احتیاطی طور پر کیا گیا، اور ان کا دل صحت مند حالت میں ہے۔
ادھر امریکی حکام نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کے ویزا اجرا کو روک دیا ہے جبکہ پناہ گزینوں کی تمام درخواستوں پر بھی عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانوں کیلئے امریکی دروازے بند؟ امریکا نے افغان شہریوں کے ویزے بند کر دیے
اس سے قبل افغانوں کیلئے امریکی دروازے بند، افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے فوری طور پر معطل، امریکی محکمہ خارجہ اور وزیر خارجہ کی تصدیق
تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کے لیے ویزوں کا اجرا روک دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی کہ محکمہ خارجہ نے افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزے جاری کرنے کا عمل معطل کر دیا ہے۔
امیگریشن حکام نے بھی بتایا کہ وہ مستقبل قریب کے لیے پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے روک رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں U.S. Citizenship and Immigration Services نے پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے معطل کر دیے ہیں۔
ایجنسی کے ڈائریکٹر Joseph Edlow نے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی کی جانچ پڑتال اور زیادہ سے زیادہ اسکریننگ کو یقینی بنانے تک تمام فیصلے روک دیے گئے ہیں۔





