خیبر پختونخوا نہ صرف پاکستان کے خوبصورت صوبوں میں سے ایک ہے بلکہ قدرتی وسائل اور ثقافتی ورثے سے بھی مالا مال ہے۔
یہاں کی سرسبز وادیاں، بلند و بالا پہاڑی سلسلے، دریائے سندھ اور دریائے کابل کی خوبصورتی، جھیلیں، آبشاریں، جنگلات اور قدرتی مناظر دل کو موہ لیتے ہیں۔ ہریالی سے ڈھکے پہاڑی علاقے، خوبصورت نالے، صاف پانی کی جھیلیں اور سردیوں میں برف سے ڈھکی چوٹیاں، صوبے کی قدرتی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔
علاوہ ازیں یہاں کے قدرتی وسائل میں معدنیات، جنگلات اور زرعی زمین بھی شامل ہیں جو صوبے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کی ثقافت اور روایات بھی یہاں کی خوبصورتی کا حصہ ہیں۔ پختون عوام اپنے حجروں (روایتی پختون مکانوں) میں مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں۔
حجروں میں بیٹھ کر چائے اور مقامی ذائقوں کے ساتھ گرم کھانے، جیسے حلیم، مصالحہ دار گوشت، فرائی اور مصالحہ فِش، پیش کیے جاتے ہیں۔ سردیوں میں یہ مہمان نوازی اور لذیذ کھانے سرد شاموں میں خاص طور پر یادگار لمحے پیدا کرتے ہیں۔
شہریوں اور سیاحوں کا کہنا ہے کہ حجروں کی خاص فضاء، روایتی فرنیچر، گرم آتشدان اور خوشبو دار مصالحہ جات سردیوں کی شاموں کو مزید خوشگوار بنا دیتے ہیں۔
نوشہرہ، پشاور، ایبٹ آباد، سوات، دیر اور مانسہرہ کے مقامی فوڈ پوائنٹس پر شہری فرائیڈ فِش، مصالحہ فِش، گرلڈ فِش، حلیم، پکوڑے، سوپ، گرم چکن اور دیگر روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سابقہ فاٹا کا انتظامی انضمام مکمل، مگر مالیاتی انصاف ابھی دور، شفیع جان
دکانداروں کے مطابق سردیوں کے آغاز کے بعد مچھلی اور دیگر گرم کھانوں کی مانگ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور مقامی ریسٹورنٹس پر رش بڑھ گیا ہے۔
نوجوان، خاندان اور دوست سردیوں کی راتوں میں روایتی کھانوں اور حجروں میں بیٹھ کر محفلیں سجاتے ہیں۔
یوں خیبر پختونخوا نہ صرف قدرتی خوبصورتی اور لذیذ کھانوں میں منفرد ہے بلکہ پختون ثقافت، حجروں کی مہمان نوازی اور سردیوں میں گرم محفلیں اسے ملک کے دیگر صوبوں کے لیے ایک الگ اور یادگار تجربہ بناتی ہیں۔





