بنوں میں خوارج کا وحشیانہ حملہ، اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ، شاہ ولی اور دیگر شہید، عام شہری بھی شدید خطرے میں، صوبائی حکومت کی ناکامی بے نقاب
خیبرپختونخوا کے علاقے بنوں کے ممش خیل میں خوارج نے ایک وحشیانہ حملہ کیا جس میں اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ، شمالی وزیرستان کے شاہ ولی اور دیگر دو افراد شہید ہو گئے۔ واقعہ میران شاہ-بنوں روڈ پر پیش آیا جہاں خوارج نے اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی کو آگ لگا دی، جو کہ نہ صرف قبائلی اور اسلامی روایات کے خلاف ہے بلکہ انسانی حقوق کے اصولوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
پولیس کے مطابق، حملے کے دوران ایک راہگیر بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ خوارج کی کارروائیاں صرف سیکیورٹی فورسز تک محدود نہیں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی شدید خطرہ ہیں۔ آر پی او بنوں، سجاد احمد نے بتایا کہ خوارج نے حملے کے بعد موقع سے فرار حاصل کیا اور شہید اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی کو آگ لگا دی۔
شہید اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا۔ اس واقعے نے اس دعوے کو یکسر غلط ثابت کر دیا کہ خوارج صرف سیکیورٹی اداروں کے دشمن ہیں اور عوام سے ان کا تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ گروہ عام شہریوں کی جان و مال کو بھی بلا تفریق نشانہ بناتا ہے۔
واقعے نے صوبائی حکومت کی ناکامی کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ 10 اکتوبر 2025 کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صوبے میں انسداد دہشتگردی (CTD) اہلکاروں کی تعداد صرف 3,300 ہے، جو اتنے بڑے اور حساس صوبے کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ پچھلی 13 سالہ پی ٹی آئی حکومت CTD کی استعداد بڑھانے میں ناکام رہی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام رہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے بارہا کیے گئے بیانات کہ فوج صرف سرحدی علاقوں تک محدود رہے، شہری علاقوں میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے سوالات کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، صوبائی حکومت کی بعض غلط پالیسیاں اور دہشتگرد عناصر کے ساتھ کیے گئے فیصلے اور معاہدے بھی صورتحال کو بگاڑنے کا سبب بنے، جس سے عوام کے تحفظ میں واضح ناکامی کا اظہار ہوتا ہے اور دہشتگردوں کو مزید آزادی حاصل ہوئی۔
یہ دل خراش واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خوارج ہر کسی کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کرنے کی صورت میں عام شہری بھی مسلسل خطرے میں ہیں۔ حکام پر لازم ہے کہ فوری اور جامع اقدامات کر کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور دہشتگرد عناصر کی سرگرمیوں کو مؤثر طور پر روکیں۔





