سربراہ پاک فضائیہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے معرکۂ حق میں تاریخ رقم کی، سعودی کیڈٹس کی موجودگی دوستی کی مضبوط علامت ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان رسالپور میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ سعودی کیڈٹس کی موجودگی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان لازوال بھائی چارے، فوجی تعاون اور دوستی کی گہری جڑوں کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی افواج کا باہمی تعلق نہ صرف خطے میں امن کے لیے اہم ہے بلکہ مشترکہ دفاعی اہداف کے لیے بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
سربراہ پاک فضائیہ نے کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’آپ کو مادرِ وطن کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے مقدس فریضے کا امین بنایا گیا ہے۔ پوری قوم کی امیدیں آپ کے نوجوان کندھوں پر ہیں۔‘‘
معرکۂ حق قومی اتحاد اور افواج کے مشترکہ کردار کی شاندار مثال ایئر چیف نے اپنے خطاب میں معرکۂ حق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قوم اور پاکستان کی مسلح افواج نے اتحاد اور ہم آہنگی کی بے مثال مثال قائم کرتے ہوئے دشمن کو اُس کی عددی برتری کے باوجود شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی فیصلہ کن کامیابی قومی طاقت کے تمام عناصر کے مؤثر کردار اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا نتیجہ تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فتح تینوں افواج کی بہترین ہم آہنگی، جارحانہ فیصلہ سازی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بہادرانہ قیادت کا ثمر تھی۔
دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ جب پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کیا گیا تو پاک فضائیہ نے اپنی روایتی میراث کو برقرار رکھتے ہوئے نہایت کم تعداد میں لڑتے ہوئے دشمن کے جدید ترین طیارے مار گرائے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کارروائیاں نہ صرف مؤثر تھیں بلکہ پوری طرح متوازن اور سوچے سمجھے انداز میں کی گئیں۔“ہمارا مقصد تھا کہ عزت کے ساتھ امن قائم ہو۔
جدید فضائی طاقت کا جرات مندانہ استعمال انہوں نے کہا کہ دنیا نے اس سے پہلے کبھی فضائی طاقت کے ایسے جرات مندانہ اور تکنیکی طور پر مربوط استعمال کو نہیں دیکھا۔حالیہ فضائی تصادم جدید دور کی ایئر وارفیئر کے لیے ایک نصابی مثال بن چکا ہے۔ایئر چیف کے مطابق 2025 میں پاک فضائیہ نے ایک بار پھر تمام شعبوں میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل برتری ثابت کی۔ اس مقصد کے لیے فضائیہ نے مالی وسائل کی کمی اور ٹیکنالوجیز کی محدود دستیابی کے باوجود ایک تخلیقی، جارحانہ اور جدید حکمت عملی اپنائی۔
جدید طیاروں کی تیز ترین شمولیت سربراہ پاک فضائیہ نے بتایا کہ اسمارٹ انڈکشن پروگرام کے تحت متعدد جدید لڑاکا طیارے اور جدید ٹیکنالوجیز ریکارڈ وقت میں پاک فضائیہ کے بیڑے میں شامل کی گئیں، جس نے پاکستان کی فضائی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔
افواج کی ہم آہنگی اور قوم کا غیر متزلزل اعتمادانہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے دیگر مسلح افواج کے ساتھ مل کر بہادری، ہم آہنگی اور غیر معمولی پیشہ ورانہ کارکردگی کے ساتھ وطن عزیز کا دفاع کیا۔ پوری قوم کو اپنی فضائیہ کی ہمت اور جرات پر فخر ہے۔“یہ فتح ہماری قومی قیادت کے پختہ عزم اور افواج کی مشترکہ کاوشوں کا ثبوت ہے۔ پاکستانی قوم کا اپنی مسلح افواج پر اعتماد بے مثال ہے، جو دہائیوں کی قربانیوں اور خدمت کا نتیجہ ہے۔”
پاکستان امن کا خواہاں لیکن دفاع کے لیے ہمہ وقت تیارایئر چیف نے واضح کیا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور سب کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قومی خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا تو دشمن ایک پہلے سے زیادہ مضبوط اور بہتر تیار پاک فضائیہ کا سامنا کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک ذمہ دار جوہری قوت کے طور پر پاکستان کے عالمی و علاقائی اہم ممالک سے روابط پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں، اور قومی قیادت ملک کی نظریاتی، جغرافیائی اور فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔





