اگر میں صدر ہوتا تو روس،یوکرین جنگ کبھی نہ ہوتی، پیوٹن سے ملاقات مثبت رہی، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کی ملاقات اچھی رہی۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس ملاقات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر پیوٹن یوکرین کے ساتھ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو روس-یوکرین جنگ کبھی شروع نہ ہوتی اور یوکرین اپنا 100 فیصد علاقہ برقرار رکھتا۔

روس-یوکرین امن مذاکرات کے لیے ٹرمپ کے معاونین آج میامی میں یوکرینی مذاکرات کار سے ملاقات کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ کے معاونین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو میں صدر پیوٹن سے تقریباً پانچ گھنٹے طویل ملاقات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر سلمان اکرم راجہ کا حیران کن انکشاف

ملاقات کے بعد روسی صدر کے خارجہ پالیسی مشیر یوری اوشاکوف نے بتایا کہ امریکی حکام سے حالیہ بات چیت میں کچھ نکات قبول کیے گئے، جبکہ چند پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ مجموعی طور پر مذاکرات کو مفید قرار دیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ روس اور امریکا کے درمیان علاقائی معاملات پر اب تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا اور دونوں صدور کی ملاقات کا شیڈول بھی طے نہیں ہوا۔

Scroll to Top