وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہاہےکہ خیبرپختونخوا کے سوا تین صوبوں کو ان کا حق دیا جارہا ہے مگر افسوس ہمارا صوبہ اس حق سے محروم ہے۔
داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ این ایف سی میٹنگ کے بعد اب یہاں آیا ہوں، میٹنگ میں اپنا مدعا رکھا ہے، 25ویں ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا باوجود اس کے قبائلی اضلاع کو ان کا شیئر نہیں دیا جا رہا، میٹنگ میں کہا کہ یہ غیر آئینی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اے ٹی سی اسلام آباد نے وزیراعلی سہیل آفریدی ،مینا خان اور ڈاکٹر امجد کو اشتہاری قرار دیدیا
انہوں نے بتایا کہ اصولی طور پر شرکاء اس بات پر متفق ہوگئے ہیں اور فیصلہ ہوا ہے کہ آئندہ بدھ تک سب کمیٹی بنے گی، 8 جنوری تک اپنی سفارشات رکھیں گے، این ایف سی کی آئندہ میٹنگ جنوری میں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کے پی عوام نے دہشت گردی کی جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، انفرا اسٹرکچر تباہ ہوا ہے، بدقسمتی سے ہمیں ہمارا حق نہیں دیا گیا اب یقین دہانی کرائی گئی کہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردوں کی سہولت کاری خیبرپختونخوا حکومت نہیں وہ کررہے ہیں جنھوں نے جرائم پیشہ افغانی کے الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی منظور کروائے، پہلے گڈ طالبان اور بیڈ طالبان تھے اب گڈ افغانی اور بیڈ افغانی ہیں، جو جرائم پیشہ ہیں ان کو پارلیمنٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
دریں اثنا عمران خان سے ملنے اڈیالہ آئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا آج بھی بغیر ملے واپس لوٹ گئے۔
اس موقع پر معاون خصوصی شفیع جان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم سات دسمبر کو پشاور میں جلسہ کررہے ہیں اس میں اگلا لائحہ عمل دیں گے، ہم عدالتی حکم کے مطابق یہاں آتے ہیں، منگل کو بانی کی بہنوں اور جمعرات کو سیاسی لوگوں کی ملاقات ہوتی ہے، منگل کو بھی ہم پھر آئیں گے بانی کی فیملی کی ملاقات کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نویں بار ملاقات کیلئے آئے ہیں لیکن ان کی ملاقات نہیں دی گئی، ہم یہ ساری چیزیں آن ریکارڈ لانا چاہتے ہیں، ہم کسی سے رابطے میں نہیں ہم بانی کی ہدایات پر عمل کررہے ہیں، وزیراعظم کے اختیار میں کچھ نہیں وہ ملاقات نہیں کراسکتے۔





