وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑنے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا وجود بطور جماعت ختم ہو چکا، دہشتگردانہ ذہنیت کے ساتھ مزید بات چیت ممکن نہیں
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مستقبل، اس کی قانونی حیثیت، ممکنہ پابندی اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ جیسے معاملات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں قانونی ماہرین سے باضابطہ مشاورت بھی کی جائے گی۔ایک نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’’بطور جماعت پی ٹی آئی کا اب وجود نہیں رہا، نہ اس کے پاس انتخابی نشان ہے، اس لیے کالعدم قرار دینے کے لیے قانونی پہلوؤں کا جائزہ ضروری ہے۔‘‘
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر تشویش وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی حکومت حالات بہتر نہ کر سکی تو گورنر راج کا آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا’’خیبر پختونخوا میں گورنر راج ایک سنجیدہ آپشن ہے اور اس کا قانونی جواز بھی موجود ہے۔‘‘
بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتیں مکمل طور پر بندعطا تارڑ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتیں مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔وزیر اطلاعات کے مطابق’’نہ کسی کو ملاقات کی اجازت ہوگی اور نہ ہی جیل کے باہر ہجوم اکٹھا کرنے دیا جائے گا۔‘‘
سوشل میڈیا پر قومی سلامتی کے خلاف مہمات پر کارروائی قومی سلامتی اور عسکری قیادت کے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’پاکستان نے بھارت کے خلاف جنگ جیتی، لیکن افسوس کہ سپہ سالار کے خلاف ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے۔’’انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی مہمات چلانے والے اکاؤنٹس کا بڑا حصہ بیرونِ ملک، خصوصاً بھارت اور یورپ سے آپریٹ ہو رہا ہے، اور اس حوالے سے سخت کارروائی کی جائے گی۔
مذاکرات کا راستہ کس کے لیے کھلا ہے؟پی ٹی آئی کے ساتھ مستقبل میں بات چیت کے امکانات کے بارے میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ’’پی ٹی آئی نے مذاکرات کی ٹرین مس کر دی ہے۔ اگر ان کے رہنما مذاکرات چاہتے ہیں تو پہلے بانی پی ٹی آئی کے بیانات سے لاتعلقی ثابت کریں۔’’انہوں نے واضح کیا کہ 9 مئی کے واقعات کے ملزمان کو سزائیں ہو رہی ہیں اور مزید کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
’’پی ٹی آئی والے سیاستدان نہیں، دہشتگرد ہیں‘‘عطا تارڑ کا الزام وزیر اطلاعات نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا’’یہ لوگ سیاستدان نہیں، دہشتگرد ذہنیت کے حامل ہیں اور ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اب ان سے کوئی بات نہیں ہوگی۔’’انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ بھارت اور افغانستان کے لیے اسپیس پیدا کرنا چاہتے ہیں اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔‘‘
حکومت کا مجموعی مؤقف عطا اللہ تارڑ نے اس تاثر کی تردید کی کہ حکومت مذاکرات مکمل طور پر بند کر چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ’’بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے، مگر قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پر ممکنہ پابندی کا معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے، اور اس پر فیصلہ قانونی رائے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔





