حمد واللہ
ایبٹ آباد:خاتون ڈاکٹر وردا مشتاق کے قتل میں نامزد ملزمان کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی ،پولیس نے تین روز کا ریمانڈ حاصل کرلیا۔
پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی اپیل پر ایبٹ آباد سمیت صوبہ میں ڈاکٹرز کا سروسز سے مکمل بائیکاٹ ،آج ڈی ایچ کیو کے احاطہ میں دعائیہ کیمپ لگانے مطالبات پورے نہ ہونے پر آئندہ کے لائحہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
ڈاکٹر وردہ مشتاق کے اندوہناک قتل پر صوبہ بھر کی طرح آج بے نظیر شہید ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹرز نے ایمرجنسی اور او پی ڈی سے مکمل بائیکاٹ کیا ۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ہزارہ کے صدر ڈاکٹر ضیاء قمر ،ڈاکٹر ارم صدیق کا کہناتھا ڈاکٹر وردا مشتاق کی روح کو تسکین پہنچانے کے لئے پولیس اور انتظامیہ فوری طور پر پیش کئے گئے مطالبات پر عمل درآمد کرے۔
ڈاکٹرز پیرا میڈیکس سمیت تمام تنظیموں کے زمہ داران نے فیصلہ کیا ہے اب کسی کے پاس نہیں جائیں گے زمہ داران ہسپتال میں اس پیش رفت سے آگاہ کریں ۔
ادھر پولیس نے قتل کے مقدمہ میں ملوث ڈاکٹر وردا کی سہیلی ردا زوجہ وحید،ندیم ولد اورنگزیب ،پرویز ولد ایوب کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کرکے تین روز کا ریمانڈ حاصل کیا۔مقدمہ میں مرکزی ملزمان شمریز کی گرفتاری تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
دریں اثنا ایوب میڈیکل کمپلیکس ،تحصیل ہسپتال لورہ ،حویلیاں میں ڈاکٹرز نے مقتولہ ڈاکٹرز وردا مشتاق کے قتل پر اظہار یکجہتی کرتے احتجاجی ریلیاں بھی نکالی ہیں۔
پراونشل ڈاکٹر ایسوسی ایشن ہزارہ کے صدر کا کہناتھا ابھی تحریری طور پر ایسوسی ایشن کو کوئی دستاویز نہیں دی گئیں جس پر مذید آگے کا لائحہ جلد دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 4 دسمبر کو ڈاکٹر وردا مشتاق کو 67 تولے طلائی زیورات واپس کرنے کے لئے ان کی سہیلی ردا وحید ہسپتال سے ساتھ لے کر گئیں تھی اور جدون پلازہ سے ملحقہ زیر تعمیر گھر میں دیگر ملزمان نے ان کو قتل کرکے لڑی بنوٹہ کے جنگل میں گڑھا کھود کر دفن کر دیا تھا۔
پولیس کی جانب سے تحقیقات کے بعد ملزمان کی نشاندہی پر نعش کو 8 دسمبر علی الصبح برآمد کیا گیا جس کے خلاف ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی نے فوارہ چوک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کرکے احتجاج کیا ۔
کمشنر سمیت پولیس افسران نے مذاکرات کرکے میں شاہراہ کو ٹریفک کے لئے بحال کیا ۔ادھر ڈاکٹرز کی ہڑتال سے ڈی ایچ کیو آنے والے مریضوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔





