راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کو پولیس نے ختم کر دیا۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن استعمال کیا گیا جبکہ کارکنوں نے پولیس پر پتھراو کیا۔ ذرائع کے مطابق متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور بانی عمران خان کی بہنوں کو آج ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے بعد وہ دھرنے پر پہنچیں۔
پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو فیکٹری ناکے پر روک دیا، جس کے بعد علیمہ خان نے کارکنان کو پرسکون رہنے اور ناکے سے پیچھے ہٹنے کی ہدایت کی۔
شاہد خٹک نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ جان دونگا لیکن اپنے لیڈر کی بہنوں کو تنہا نہیں چھوڑونگا آج اڈیالہ جیل کے باہر سے سخت زخمی حالت میں ہسپتال منتقل ہو گئے ہے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے اور بھی سخت چوٹیں آئی ہے سب سے دعا کی اپیل ہے۔۔۔
ایڈمن۔۔ pic.twitter.com/G8hA9Yu9rr
— Shahid Khattak (@ShahidkhattakSk) December 9, 2025
دھرنے کے دوران فیکٹری ناکے پر ہنگامہ اور تناؤ پیدا ہوا، تاہم علیمہ خان کی قیادت میں کارکنان نے قابو پانے کی کوشش کی۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور واٹر کینن کے استعمال سے حالات کشیدہ رہے، اور متعدد کارکنان کو بعد میں حراست میں لے لیا گیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کے دوران پولیس نے مظاہرین پر واٹر کینن کے ذریعے پانی پھینکنا شروع کر دیا، جس کے باعث متعدد افراد متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : اڈیالہ جیل دھرنا: پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا
دوسری جانب صحافی حسنین رفیق نے ٹوئٹ میں بتایا کہ رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک عظمی خانم کو بچاتے ہوئے نالے میں گر گئے، جس سے ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
پولیس کی اس کارروائی کے بعد دھرنے میں موجود کارکنوں اور خواتین میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔





