اڈیالہ جیل دھرنا: پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا

اسلام آباد: اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کے دوران پولیس نے مظاہرین پر واٹر کینن کے ذریعے پانی پھینکنا شروع کر دیا، جس کے باعث متعدد افراد متاثر ہوئے۔

دوسری جانب صحافی حسنین رفیق نے ٹوئٹ میں بتایا کہ رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک عظمی خانم کو بچاتے ہوئے نالے میں گر گئے، جس سے ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

پولیس کی اس کارروائی کے بعد دھرنے میں موجود کارکنوں اور خواتین میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دھرنے کی اصل کہانی: کارکن نے قیادت کو کھری کھری سنادیں، جانثار کہاں ہیں؟

 پاکستان تحریک انصاف کے کارکن نے اڈیالہ جیل کے باہر جاری دھرنے کے دوران پارٹی قیادت پر سخت تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ خان کے جانثار کہاں ہیں؟۔

اڈیالہ جیل کے قریب علیمہ خان کے دھرنے میں نوشہرہ سے آئے کارکن فضل امین نے پی ٹی آئی قیادت کی کارکردگی پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے دعوے کرتے ہیں، وہ دھرنے میں کہاں ہیں اور کارکنان کے مسائل کے حل کے لیے کچھ کیوں نہیں کر رہے۔

رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے کارکن سے کہا کہ یہاں سب غیرت مند بیٹھے ہیں، لیکن فضل امین نے ان پر بھی کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی لیڈر بننے کے بعد شاہد خٹک غلط باتوں کو نظر انداز نہ کریں۔

کارکن نے مزید کہا کہ موجودہ قیادت صرف تصویریں اور ٹک ٹاک بنانے کے لیے دھرنے میں آتی ہے، جبکہ کارکن مسلسل مشکلات اور ذلت برداشت کرتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قیادت کے لئے کارکن کی قربانیاں اہمیت نہیں رکھتیں اور دھرنے کا مقصد محض تفریح یا مزے کرنا بن چکا ہے۔

Scroll to Top