بھارتی خفیہ ایٹم بم لیبارٹری کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی

بھارتی خفیہ ایٹم بم لیبارٹری کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی

سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف: بھارت کی خفیہ نیوکلیئر میزائل اسٹوریج سائٹ جگلپل میں عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں دفاعی حکام کی خفیہ زیرزمین ایٹم بم لیبارٹری اور بیلسٹک میزائل اسٹوریج کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں، جس سے بھارت کی دفاعی منصوبہ بندی اور ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ پھیلاؤ سے متعلق عالمی تشویش بڑھ گئی ہے۔ اس انکشاف کے بعد خطے میں سکیورٹی کی صورتحال اور بھارت کی اسٹریٹیجک صلاحیتوں پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ آندھرا پردیش کے علاقے جگلپل میں ایک مبینہ زیرِ زمین بیلسٹک میزائل اسٹوریج کمپلیکس کی تعمیر جاری ہے، جس میں کئی حساس اور اہم ڈھانچے موجود ہیں۔ ان میں گہری زیرِ زمین اسٹوریج سہولیات کے لیے سرنگ نما داخلی راستے، مٹی کے بڑے ڈھیر (Spoil Piles) جو کھدائی کے حجم کا اشارہ دیتے ہیں، اور مضبوط ہارڈنڈ لانچ پیڈز کے علاوہ مکمل انتظامی علاقے شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ تصاویر صرف ’’برف کی سطح‘‘ ظاہر کر رہی ہیں اور اس کے پیچھے مزید خفیہ سرگرمیاں جاری ہو سکتی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ہیں تو خطے میں کشیدگی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں

اوپن سورس انٹیلیجنس کے مطابق یہ تنصیب گوہاٹی کے شمال میں 26.2659 شمالی اور 91.7312 مشرقی طول بلد پر واقع ہے، جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اگنی سیریز کے ایٹمی میزائل موجود ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین نے اس سائٹ کو بھارت کی ’’نیوکلیئر ٹرائیڈ‘‘ کا حصہ قرار دیا ہے، جس میں زمینی، فضائی اور آبدوزی ہتھیار شامل ہیں۔

تھِنک ٹینکس اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی زیرِ زمین تنصیبات وارہیڈز اور میزائلوں کے تیز تر ملاپ کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں، اگرچہ بھارت عام طور پر وارہیڈز کو الگ رکھتا ہے۔ یہ کمپلیکس 2014 سے تعمیر ہو رہا ہے اور چین اور بنگلہ دیش کی سرحدوں سے انتہائی اسٹریٹجک فاصلے پر واقع ہے، جس سے یہ خطے میں دفاعی توازن کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

خطے میں عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے اور سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مانیٹرنگ اداروں کو فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔ اب تک بھارتی حکام نے اس تنصیب کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے، لیکن اوپن سورس انٹیلیجنس اور سیٹلائٹ تصاویر سے عالمی برادری کے لیے ایک سنگین خطرے کی واضح تصویر سامنے آ رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ خفیہ منصوبہ بندی نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے بلکہ عالمی نیوکلیئر سکیورٹی اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے سنگین چیلنج بھی ثابت ہو سکتی ہے، اور کسی بھی ممکنہ تنازع میں اس کے استعمال سے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top