اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی نے بیرسٹر گوہر کو مین آف دی میچ قرار دیا، جس کا مقصد پارٹی کے اندر سیاسی صورتحال اور کارکردگی کو اجاگر کرنا بتایا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ اقدام پارٹی کے اندر موجود مسائل اور اختلافات کو سامنے لانے کے لیے کیا گیا۔
شیرافضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ممبران محسوس کرتے ہیں کہ پارٹی درست سمت میں نہیں جا رہی اور اہم فیصلے مناسب طریقے سے نہیں ہو رہے۔
ان کے مطابق کچھ رہنما پارٹی کے اندر اتحاد اور اعتماد کو متاثر کرنے والے رویے اختیار کرتے ہیں، اور بعض اوقات بہنوں کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں، جس سے پارٹی کی مجموعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں پارلیمانی پارٹی کو اپنے رویے اور فیصلوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ پارٹی عوامی توقعات کے مطابق اپنی سمت درست کر سکے اور سیاسی اثر و رسوخ برقرار رکھ سکے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ مزاحمت کی سیاست کی بجائے مفاہمت کی پالیسی اپنانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کا رویہ گورنر راج کی ضرورت پیدا کر سکتا ہے، بلاول بھٹو
پی ٹی آئی کے ایک اور ممبر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی ملاقات بیرسٹر گوہر کے مشورے پر کرائی گئی، اور پارٹی کے ارکان نے واضح کیا کہ وہ ٹکراؤ کی سیاست نہیں چاہتے بلکہ مفاہمت اور ہم آہنگی کی پالیسی کو ترجیح دیتے ہیں۔
پارلیمانی پارٹی کے اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر موجود بعض رہنما پارٹی کی سمت، اتحاد اور عوامی توقعات کے مطابق فیصلے کرنے پر زور دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں پارٹی کی سیاسی پوزیشن مضبوط رہ سکے اور اندرونی اختلافات کو کم کیا جا سکے۔





