پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج پہاڑوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں آج پہاڑوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد پہاڑی سلسلوں کو ماحولیاتی خطرات سے محفوظ رکھنا اور پہاڑوں کے قدرتی حسن کو برقرار رکھنے کے لیے عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے۔

آزاد کشمیر کے بیشتر پہاڑی سلسلے سال کے زیادہ تر حصے برف سے ڈھکے رہتے ہیں اور سیاحوں کو اپنی خوبصورتی سے مسحور کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں موجود پہاڑ نہ صرف قدرتی خوبصورتی کا منبع ہیں بلکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دنیا کی 24 بڑی چوٹیوں میں سے 8 کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے، جبکہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پاکستان کی پہلی بلند ترین چوٹی ہونے کا اعزاز رکھتی ہے۔

کے ٹو جو 8611 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، دنیا بھر کے کلائمبرز کے لیے ایک بڑی چیلنج ہے اور اپنی موجودگی کا جادو جگاتی ہے۔

اس چوٹی کو سر کرنے کی مہم میں اب تک 91 کلائمبرز اپنی جان کی قربانی دے چکے ہیں جبکہ 377 کامیاب مہمات مکمل ہو چکی ہیں۔

پاکستان میں تقریباً 108 چوٹیوں کی بلندی سات ہزار میٹر سے زائد ہے اور چھ ہزار میٹر سے کم کی چوٹیوں کی تعداد بھی بڑی ہے۔

کے ٹو کے لیے ہر سال دو سمٹ ایکسپڈیشن منعقد کی جاتی ہیں، جس میں دنیا بھر سے کلائمبرز گلگت بلتستان پہنچتے ہیں تاکہ اس چیلنجنگ چوٹی کو سر کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : مردان: زہریلے بیج نے ایک خاندان کی دو ننھی بچیوں کو خاموش کر دیا

پہاڑ نہ صرف سیاحت کے لیے اہم ہیں بلکہ جنگلات کی افزائش، برف باری اور پانی کے ذخائر کے لیے بھی ان کی اہمیت ناقابلِ تردید ہے۔

ماحولیاتی ماہرین اور ماہرینِ سیاحت کا کہنا ہے کہ پہاڑ ہماری زندگی میں ایک قدرتی سرمایہ ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے شعور اجاگر کرنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

پہاڑی سلسلے نہ صرف ہوا اور پانی کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ زراعت، سیاحت اور قدرتی وسائل کے لیے بھی بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

آج کے دن ملک بھر میں مختلف سطحوں پر تقریبیں اور مہمات کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو پہاڑوں کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔

Scroll to Top