شیخوپورہ: شہریوں کے لیے خبردار کرنے والی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایک خاتون کے شناختی کارڈ کے ذریعے دیگر افراد کے لیے جعلی موبائل سمز جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور نیشنل کمپیوٹر اینڈ انفارمیشن کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے مشترکہ کارروائی کی۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران شیخوپورہ میں ایک موبائل کمپنی کے فرنچائز پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے 150 جعلی سمز، دو موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ اور پانچ BVS ڈیوائسز برآمد کی گئیں۔
فرنچائز کے مالک اور ایک ملازم کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
پی ٹی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سم اجرا کے خلاف ادارے کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان انڈر 19 ٹیم دبئی پہنچ گئی، یو اے ای اور ملائیشیا کے خلاف میدان میں اتریں گی
شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ کسی بھی مشتبہ کارروائی کی اطلاع فوری طور پر ہیلپ لائن 55055 یا 0800 پر دیں۔
ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ شناختی کارڈ کا غلط استعمال مستقبل میں بڑے مالی نقصان اور پرائیویسی کے مسائل پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ہر شخص کو اپنی ذاتی معلومات کی حفاظت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔





