طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہ کی تو پاکستان اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا، عاصم افتخار

اسلام آباد : اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طالبان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کرتی تو پاکستان اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔

عاصم افتخار نے بتایا کہ افغانستان میں تقریباً 6 ہزار ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں، جو پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین دوبارہ دہشتگرد گروہوں اور ان کے پراکسی عناصر کی پناہ گاہ بن چکی ہے، اور وہاں دہشتگرد گروہ باہمی تعاون کر رہے ہیں، جس کی ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد بار دہشتگردوں کی دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے اور اس سلسلے میں نہ صرف ہمارے بہادر سکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں نے بھی عظیم قربانیاں دی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ٹیم نے بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ افغانستان میں جاری صورتحال کے تباہ کن نتائج پورے خطے پر اثر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور افغان مہاجرین کو اپنے وطن واپس جانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کے خطرات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور طالبان حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف موثر اقدامات کرے تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم رہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، افغان علماء کا بڑا فیصلہ

 سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کابل میں طالبان سے منسلک مذہبی علماء کا ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا، جس میں ملک کے تمام 34 صوبوں سے ایک ہزار سے زائد علماء نے شرکت کی۔

کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ قرارداد میں واضح اعلان کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی یا مسلح کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور کسی بھی افغان شہری کو بیرونِ ملک جہاد کے لیے روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی افغان شہری کو جہاد یا کسی مسلح سرگرمی کے لیے افغانستان سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ موقف پاکستان کے اس دیرینہ مطالبے کی تائید کرتا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس قرارداد کو محتاط امید کے ساتھ قبول کیا ہے، تاہم اصل امتحان اس فیصلے پر عملی طور پر مکمل عمل درآمد ہوگا، کیونکہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے وعدے کیے گئے لیکن مؤثر نتائج سامنے نہیں آئے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد پاکستان کے اصولی اور مستقل موقف کی بھی توثیق کرتی ہے، جو ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغانستان کو اپنی سرزمین دہشت گرد گروہوں سے پاک رکھنی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق طالبان حکومت مذہبی بنیاد پر اپنی پالیسی میں تبدیلی کا راستہ تلاش کرتی دکھائی دیتی ہے، اور یہ مذہبی فیصلہ انہیں اس تبدیلی کے لیے ایک مضبوط اخلاقی جواز بھی فراہم کرتا ہے۔

Scroll to Top