خیبرپختونخوا کابینہ کے آج ہونے والے اجلاس میں پوری قبائلی پٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف وزیراعلی محمد سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبرپرتوجہ دی گئی ۔
اجلاس میں ہونے والے فیصلوں میں ضم شدہ اضلاع کا کوئی قابل ذکر پراجیکٹ شامل نہیں تھا جبکہ دوسری جانب کابینہ نے ضلع خیبرکے دو پراجیکٹس کیلئے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی۔
کابینہ نے ضلع خیبر میں باڑہ ریور کینال سسٹم کی بہتری کے لیے فنڈ منظور کیا اور جمرود میں ہیلتھ سائنسز انسٹی ٹیوٹ کے لئے 454.156ملین روپے فنڈ کی بھی منظوری دی گئی۔
علاوہ ازیں کابینہ نے تیراہ میدان کے علاقے شلوبر قمبر خیل کے واقعہ میں زخمی ہونے والے افرادکے لیے فی کس 25 لاکھ روپے کے معاوضے کی منظوری دی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے 42ویں کابینہ اجلاس کے فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبائی کابینہ نے اچھی طرزِ حکمرانی، بہتر عوامی خدمات اور کمزور طبقوں کی معاونت کے لیے اہم فیصلے کیے۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے شعبہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا تفصیلی جائزہ لیا اور ای ٹرانسفر پالیسی کے ساتھ ساتھ تعلیم کے لیے ’گڈ گورننس روڈ میپ‘ کے اہداف کی تکمیل کے لیے دو ارب روپے سے زائد کے فنڈز کی منظوری دی جس میں پرائمری سکولوں کے انفراسٹرکچر میں بہتری، ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں نئی اصلاحات شامل ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے کابینہ نے خیبرپختونخوا ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی سیڈمنی کے لئے تین سو ملین روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دی، جس سے صوبے بھر خصوصاً ضم اضلاع کے طلبہ کو وظیفے فراہم کیے جائیں گے۔
کابینہ نے صوبے کے پہلے آرگن ڈونر مرحوم جواد خان کے اہل خانہ کو عمرہ پر بھیجنے کے لئے21 لاکھ روپے کی گرانٹ کی بھی منظور دی۔
معاونِ خصوصی کے مطابق کابینہ نے مختلف انتظامی امور کی منظوری بھی دی، جن میں انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی پاکستان انجینئرنگ کونسل کے لیے نامزدگی، ہائر ایجوکیشن اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ ٹریننگ پشاور کے ڈائریکٹر کی تعیناتی، اور دو اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کا ایم ٹی آئی بنوں تبادلہ شامل ہے۔
غربت کے خاتمے کے لیے شروع کئے گئے احسا س روزگار پروگرام کے لئے کابینہ نے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی۔ یہ پروگرام بے سہارا افراد کو 60 ماہ کی مدت میں بلاسود قرضے فراہم کر ے گا تاکہ وہ اپنا کاروبار قائم یا وسعت دے سکیں۔ اس پروگرام سے 8 ہزار مستحق افراد مستفید ہوں گے۔
اسی طرح کابینہ نے ضلع خیبر میں باڑہ ریور کینال سسٹم کی بہتری کے لیے بھی فنڈ منظور کیا۔کابینہ اجلاس میں خیبر انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال پشاور کے لئے 2130.165ملین روپے اور جمرود میں ہیلتھ سائنسز انسٹی ٹیوٹ کے لئے 454.156ملین روپے فنڈ کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کو بغیر رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے ویکسینیٹرز کے لیے 253.160 ملین روپے کے فنڈ کی منظوری دی۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کی پالیسی بورڈ کے لیے 60 ملین روپے جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے لیے 1573.84ملین روپے کے اضافی فنڈ بھی منظور کیے گئے تاکہ ہسپتال میں مزید طبی آلات خریدے جاسکیں۔
معاون خصوصی شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے ٹرائبل میڈیکل کالج کے قیام کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی اور ایک کینسر کے مریض کے علاج کے لیے 10 ملین روپے کی گرانٹ کی منظوری بھی دی۔
کابینہ نے 260 فیملی ویلفیئر سنٹرز کے منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری دی، جس کی نئی لاگت 1976.093 ملین روپے ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ سمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بورڈکو 200 ملین روپے کی ایک بار کی گرانٹ دے کر اسے خود کفیل بنانے کا ہدف دیا گیا۔ دو زرعی تحقیقاتی اداروں کو سینٹر آف ایکسیلنس میں اپ گریڈ کرنے کے لیے پراجیکٹ فنڈ میں اضافہ کیا گیا۔
مزید برآں، کابینہ نے قائدِ اعظم مزار فنڈ کے لیے 5 ملین روپے کی گرانٹ منظور کی، “قائدِ اعظم مزار فنڈ “بانی پاکستان کے مزار کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے بنایاگیا ہے۔ یہ فنڈ وفاقی وزارتِ نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔اس فنڈ میں وفاق، صوبے اور عوام حصہ ڈالتے ہیں۔
کابینہ نے تیراہ میدان کے علاقے شلوبر قمبر خیل کے واقعہ میں زخمی ہونے والے افرادکے لیے فی کس 25 لاکھ روپے کے معاوضے کی منظوری دی، ساتھ ہی پشاور ہائی کورٹ کے ججوں کے لیے دو بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی بھی منظوری دی۔
کابینہ نے صوبائی اسمبلی کی ایک متفقہ قرارداد وفاق کو ارسال کرنے کی منظوری بھی دی جس میں جنوبی وزیرستان اپر میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے شرکت کی۔





