وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر سیاسی تماشہ ناقابل قبول، خیبرپختونخوا میں بحران کی صورت میں گورنر راج ناگزیر ہو سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا آئے روز اڈیالہ جیل کے باہر آنا اور سیاسی تماشا لگانا کسی صورت مناسب طرزعمل نہیں۔ اگر یہی رویہ برقرار رہا تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
رانا تنویر حسین نے یہ بات شرقپور شریف میں چیئرپرسن پنجاب سہولت بازار اتھارٹی افضل کھوکھر کے ہمراہ نئے سہولت بازار کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ عمران مارتھ، ممبر پنجاب اسمبلی رانا طاہر اقبال اور عوام کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر کی تمام تحصیلوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سہولت بازار قائم کیے ہیں، جہاں روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت عوام دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور مہنگائی کے خلاف مزید اصلاحات بھی جاری ہیں۔
سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ اس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے کسی دوسری جیل منتقل کر دینا چاہیے تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔
وفاقی وزیر نے آئینی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جب بھی آئینی ترمیم کی ضرورت پڑی، پارلیمنٹ نے اسے منظور کیا۔ انہوں نے آٹھویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل ضیاء الحق نے اس ترمیم کے ذریعے پورا آئین بدل دیا تھا جس کے اثرات ملکی سیاست پر طویل عرصے تک رہے۔
سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی سزا کے حوالے سے رانا تنویر حسین نے کہا کہ اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی فوج میں سخت اور شفاف احتساب کا نظام موجود ہے اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں۔





