آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی بیچ پر حملے میں مسلمان شہری نے حملہ آور کو قابو پا کر کئی قیمتی جانیں بچائیں۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈی بیچ پر دو حملہ آوروں کی یہودی کمیونٹی پر اندھا دھند فائرنگ کے دوران 43 سالہ مسلمان شہری احمد ال احمد نے ناقابلِ یقین بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک حملہ آور کو قابو کر لیا اور متعدد لوگوں کی جانیں بچائیں۔
احمد ال احمد جو دو بچوں کے والد اور سدرلینڈ میں پھلوں کی دکان کے مالک ہیں، حملہ آور کو روکنے کے بعد انہیں آسٹریلیا کا ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔
حملے کے دوران احمد ال احمد کو دو گولیاں لگیں مگر وہ محفوظ رہے اور اپنی جرات و انسانیت کی مثال قائم کی۔
ماہرین اور عوام نے احمد ال احمد کی بہادری کو یورپ میں پھیلتے اسلاموفوبیا کے تناظر میں مثبت اقدام قرار دیا اور کہا کہ ان کی جرات نے نہ صرف کئی جانیں بچائیں بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک روشن مثال قائم کی۔
واضح رہے دو مسلح افراد نے بونڈی ساحل کے قریب ایک اونچے مقام سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوئے جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنے والا شوٹر افغان نژاد نکلا
حراست میں لیے گئے حملہ آور کی شناخت نوید اکرم کے طور پر ہوئی جبکہ ہلاک حملہ آور مان ہارون مونس تھا، شہری احمد ال احمد کی بہادری کی وجہ سے متعدد جانیں محفوظ رہیں اور دوسرا حملہ آور قانون کے شکنجے میں آیا۔





