واشنگٹن: امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے واقعے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کرنے والے کی شناخت رحمان اللہ لکنوال کے نام سے ہوئی ہے، جو ایک افغان نژاد غیر قانونی شہری ہے اور 2021 میں بائیڈن انتظامیہ کے تحت امریکہ میں داخل ہوا تھا۔
ذرائع کے مطابق حملے کے دوران مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔
واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا، اور وائٹ ہاؤس سمیت علاقے کو عارضی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے واقعے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت اور زخمی ہونے والے ملزم کی حالت پر تفتیش جاری ہے۔
واقعے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو محاصرے میں لے لیا گیا۔
امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری نے بھی فائرنگ کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے واقعے کے بعد لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت تھینکس گیونگ کی تعطیلات کے سلسلے میں فلوریڈا میں موجود تھے اور انہیں واقعے کی تفصیلات سے مطلع کر دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ وہ تمام تر صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور صدر کو فائرنگ کے واقعے سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، دو نیشنل گارڈز جان سے گئے، صدر ٹرمپ کا ردعمل
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ فائرنگ کرنے والا ایک جانور تھا جس نے دو نیشنل گارڈز کو گولی ماری۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار ملزم خود بھی شدید زخمی ہے، لیکن اسے سخت سزا دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی عظیم لوگ تھے اور امریکا اور صدارتی دفتر کے تمام لوگ ان کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔





