پی ٹی آئی کی پالیسی شفٹ، کون کس کے ہاتھ میں کھیل رہا ہے؟ سب سامنے آ گیا

اسلام آباد : رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے گورنرراج کی دھمکی کو سنجیدہ لیا اور اس کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنے دفاع میں قدم اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اب وفاق کے مطالبات کو عملی طور پر گنجائش دینے لگے ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو صوبے میں پالیسی میں تبدیلی کی بھنک بھی نہیں لگنے دی گئی، اور پی ٹی آئی عملی طور پر علیمہ خان کے کنٹرول میں چل رہی ہے۔

اسی موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات اتنے بڑے نہیں کہ جماعت کی پالیسی متاثر ہو، اور بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کے تمام فیصلے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی مشاورت سے کرنے کی ہدایت دی ہے۔

مصطفی نواز کھوکھر نے واضح کیا کہ اپوزیشن اس وقت سڑکوں پر احتجاج نہیں بلکہ ڈائیلاگ کو ترجیح دے رہی ہے، اور اچکزئی اور علامہ ناصر عباس دیگر جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر متفقہ لائحہ عمل تیار کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں : رانا ثناء کا تہلکہ خیز انکشاف: فیض حمید اکیلا نہیں، پورا نظام شامل تھا

انہوں نے بتایا کہ بہنوں اور سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا میں پالیسی میں تبدیلی کی بھنک بھی عمران خان کو نہیں لگنے دی، اور اسی وجہ سے پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی طرف مارچ فی الحال نظر نہیں آ رہا۔

اس وقت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنے بچاؤ کے لیے اقدامات کرنے پڑے ہیں، جبکہ پارٹی عملی طور پر علیمہ خان کے کنٹرول میں منتقل ہو گئی ہے۔

Scroll to Top