اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان اسلم غوری نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی کانفرنس کے دعوت نامے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جے یو آئی کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت تو دی گئی تھی، تاہم بعض امور پر سنجیدہ تحفظات موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کی تاریخ طے کرتے وقت جے یو آئی سے مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ انہی دنوں کراچی میں پارٹی کا ایک بڑا اور اہم پروگرام پہلے سے شیڈول ہے جس کی وجہ سے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔
اسلم غوری نے کہا کہ کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل بعض نکات سے جے یو آئی اتفاق نہیں کرتی۔
انہوں نے خاص طور پر 26ویں آئینی ترمیم کو ایجنڈے میں شامل کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ماضی میں سب جماعتیں جے یو آئی کے ساتھ کھڑی تھیں، اب اگر اسی ترمیم کو ایجنڈے میں شامل کر کے اس کی ذمہ داری جے یو آئی پر ڈال دی جائے اور وہاں بیٹھ کر تنقید کی جائے تو یہ مناسب طرز عمل نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق اس صورتحال سے کانفرنس میں اتفاق رائے کے بجائے انتشار پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ترجمان جے یو آئی نے ایجنڈے میں 2024 کے انتخابات کو جعلی قرار دینے کے نکتے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ پارٹی کا مؤقف اس حوالے سے مختلف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر 2024 کے انتخابات پر بحث کی جاتی ہے تو پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا 2018 کے انتخابات درست تھے، کیونکہ جے یو آئی نے 2018 کے انتخابات کے خلاف طویل تحریک چلائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور پولیس کی کامیاب کارروائی، ڈکیتی اور سنیچنگ کے دو مرکزی ملزمان ہلاک
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ 2024 کے انتخابات پر بحث کرتے ہوئے 2018 کے انتخابات کو بالواسطہ طور پر تسلیم کر لیا جائے۔
اسلم غوری نے کہا کہ نہ تاریخ کے تعین میں مشاورت کی گئی اور نہ ہی ایجنڈا ترتیب دیتے وقت جے یو آئی سے رائے لی گئی، حالانکہ جے یو آئی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان تحفظات کے باعث مولانا فضل الرحمان کے لیے کانفرنس میں شرکت مشکل دکھائی دیتی ہے، جبکہ کسی دوسری ٹیم کو بھیجنے سے متعلق بھی پارٹی کے اندر ایجنڈے پر غور جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی کی کوشش ہے کہ ایسی کسی سرگرمی میں شرکت نہ کی جائے جس سے اتفاق کے بجائے اختلاف اور انتشار کی فضا پیدا ہو۔





