خیبرپختونخوا میں سرکاری اداروں میں میرٹ کی خلاف ورزی کے الزامات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔
ضلع کرک کے گورنمنٹ ڈگری کالج تخت نصرتی کے گریڈ 20 کے پرنسپل ڈاکٹر امداد اللہ کا تبادلہ کر دیا گیا جس پر اختیارات کے غلط استعمال اور سیاسی مداخلت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاک فوج کے بعد عدلیہ میں بھی خود احتسابی کی شاندار مثال قائم، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ سنادیا
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے سیکیورٹی گارڈ عارف خٹک نے اپنے بھائی کو کالج میں کلاس فور کی آسامی پر بھرتی کروانے کے لیے دباؤ ڈالا۔
پرنسپل ڈاکٹر امداد اللہ نے مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتی سے انکار کیا جس کے بعد انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتے ہوئے تبادلہ کر دیا گیا۔
ڈاکٹر امداد اللہ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ کی جانب سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا تاہم میرٹ کے خلاف بھرتی ممکن نہیں تھی۔ ان کے مطابق انکار کی سزا انہیں تبادلے کی صورت میں دی گئی۔
دوسری جانب اس معاملے پر اساتذہ تنظیمیں بھی تذبذب کا شکار ہیں جبکہ تعلیمی حلقوں نے اس اقدام کو اختیارات کے غلط استعمال اور تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت قرار دیا ہے۔
تاہم ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن فرید اللہ نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرنسپل کا تبادلہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر کا ایک روٹین معاملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالج فنڈز سے عارضی بنیادوں پر کلاس فور کی بھرتیاں معمول کے مطابق ہوتی رہتی ہیں اور اس معاملے کو بلاوجہ سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن کے مطابق معاملے سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔





