شیراز احمد شیرازی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تعلیمی اسناد سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بنچ نے تین صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے طارق محمود جہانگیری کو متعدد مواقع فراہم کیے کہ وہ اپنا جواب اور متنازع تعلیمی اسناد پیش کریں تاہم وہ نہ تو اپنا مؤقف پیش کر سکے اور نہ ہی درست اور قابلِ قبول تعلیمی اسناد عدالت کے سامنے رکھ پائے۔ فیصلے کے مطابق ان کی جانب سے کوئی معقول وجہ بھی سامنے نہیں آ سکی۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس صورتحال میں مزید کارروائی کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ہائیکورٹ کے جج کے عہدے کے لیے اہلیت فردِ واحد سے متعلق ہوتی ہے اور آئین میں مقرر کردہ اہلیت کا حامل ہونا اعلیٰ عدالت کا جج بننے کے لیے بنیادی اور لازمی شرط ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق طارق محمود جہانگیری جب اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج مقرر ہوئے، اس وقت بھی وہ درست اور قابلِ قبول ایل ایل بی ڈگری کے حامل نہیں تھےجبکہ بعد ازاں مستقل جج بننے کے وقت بھی ان کے پاس درست ایل ایل بی ڈگری موجود نہیں تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جب طارق محمود جہانگیری وکیل بننے کے اہل ہی نہیں تھے تو آئین کے آرٹیکل 175-A کے تحت ہائیکورٹ کے جج بننے کے بھی اہل نہیں ہو سکتے تھے۔ عدالت کے مطابق ان کی بطور جج تقرری اور بعد ازاں ترقی غیر قانونی اختیار کے تحت کی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ طارق محمود جہانگیری جج کے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے، لہٰذا انہیں فوری طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے فارغ کیا جاتا ہے۔
عدالت نے وزارتِ قانون و انصاف کو جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے اور عدالتی حکم نامے کی کاپی فوری طور پر وزارتِ قانون کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالت نے کیس سے متعلق تمام زیرِ التوا متفرق درخواستیں بھی نمٹا دیں۔





