اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام اور بہتری کے راستے میں بانی پاکستان تحریک انصاف کی ذات سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جو سیاسی مفاہمت اور مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ماضی میں سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات کے باوجود میثاقِ جمہوریت جیسے اقدامات کیے گئے، تاہم بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ محاذ آرائی اور تصادم کی سیاست کو فروغ دیا۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود مفاہمت کی پیشکش کی اور میثاقِ معیشت کی بات کی، جس کی بلاول بھٹو زرداری نے بھی حمایت کی۔
اس موقع پر بلاول کا جملہ بانی قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں خاصا مشہور ہوا، مگر اس کے جواب میں بانی پی ٹی آئی نے دھمکی آمیز طرزِ خطاب اختیار کیا اور کہا کہ وہ سب کو جیلوں میں ڈالیں گے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں اور سیاسی استحکام یا مفاہمت کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت صرف اس شرط پر چاہتے ہیں کہ انہیں دوبارہ اقتدار میں لایا جائے، تاکہ وہ مخالفین کو ختم کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کو روکنے کے لیے لانگ مارچ کیا گیا جبکہ 9 مئی کے واقعات اور لانگ مارچ کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ فیض حمید ان کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
اگر ان واقعات میں فوج کے اندر انتشار پھیلانے یا بغاوت کی کوشش کی گئی تو یہ ایک نہایت سنگین جرم ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں فوج کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کی گئی اور اگر مزید شواہد سامنے آئے تو اس معاملے میں بغاوت کے مقدمات بھی بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد ہائی کورٹ کی ویب سائٹ سے جسٹس طارق جہانگیری کا نام و تصویر ہٹا دی گئی
ان کے مطابق اگر فیض حمید اس میں ملوث ہیں تو ممکن ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور جماعت کے دیگر اہم افراد بھی اس سازش کا حصہ ہوں۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان کسی بھی صورت فلسطین کے مفاد کے خلاف نہیں جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امن معاہدے کے تحت پاکستانی فوج کی موجودگی فلسطینی عوام کے لیے سہارا بنتی ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ امن منصوبہ عرب ممالک کی مشترکہ کاوش ہے، جسے حماس نے خود تسلیم کیا ہے، اور اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ پاکستان کی فوج ایک پیشہ ور فورس ہے اور اقوامِ متحدہ کے تحت پہلے بھی بین الاقوامی ذمہ داریاں بخوبی ادا کر چکی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ اگر پاکستانی فوج کی تعیناتی کا فیصلہ ہوا تو وزیراعظم اس معاملے کو پہلے کابینہ اور پھر پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے۔





