بنگلہ دیش: عثمان ہادی کے قتل پر بھارتی ہائی کمیشن اور عوامی لیگ کے دفاتر پر مظاہرین کے حملے

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں نوجوان سیاسی رہنما شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد جاری مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں مشتعل مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن اور حکمراں جماعت عوامی لیگ کے دفاتر پر براہ راست حملے شروع کر دیے ہیں۔

صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ دارالحکومت ڈھاکہ سمیت مختلف شہروں میں امن و امان شدید متاثر ہو گیا ہے۔

شریف عثمان ہادی کو چند روز قبل ایک قاتلانہ حملے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ابتدا میں پرامن احتجاج شروع ہوا، تاہم جلد ہی یہ مظاہرے شدید بھارت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے۔

مظاہرین کی بڑی تعداد بھارتی ہائی کمیشن کے باہر جمع ہوئی اور بھارت پر بنگلہ دیش کے داخلی سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ عثمان ہادی بھارت کی پالیسیوں کے سخت ناقد تھے اور اسی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ احتجاج کرنے والے ایک دھڑے نے ہادی کے قتل کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور سڑکوں پر مارچ کیا۔

ادھر مظاہرین نے حکمراں جماعت عوامی لیگ کے دفاتر کو بھی نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے پارٹی دفاتر پر دھاوا بولتے ہوئے پتھراؤ کیا، املاک کو نقصان پہنچایا اور کئی مقامات پر آگ لگا دی۔

ڈھاکہ میں مرکزی شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کی گئیں، جس کے باعث ٹریفک معطل ہو کر رہ گئی۔

مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

سکیورٹی فورسز کو بھارتی ہائی کمیشن اور عوامی لیگ کے دفاتر کے اطراف تعینات کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بنگلہ دیش: عثمان ہادی کے قتل پر انڈیا مخالف مظاہرے، مودی نواز 2 اخباروں کے دفاتر نذرِ آتش

احتجاج صرف ڈھاکہ تک محدود نہیں رہا بلکہ راجشاہی سمیت دیگر شہروں میں بھی پھیل گیا ہے، جہاں سرکاری عمارتوں اور عوامی مقامات کو نقصان پہنچایا گیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عثمان ہادی کے قتل میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔

عبوری حکومت نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے، تاہم مظاہرین حکومت کو نااہلی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے پر بضد ہیں۔

عوامی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو تشدد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top