پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما زاہد خان نے کہا ہے کہ حکومت کی کوشش رہی ہے کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، لیکن اگر تحریک انصاف حکومت سے بات نہیں کرنا چاہتی تو حکومت کو بھی اس کی پرواہ نہیں ہے۔
زاہد خان نے گفتگو کے دوران کہا کہ تحریک انصاف آج الزام لگا رہی ہے کہ ملاقاتیں نہیں کرائی جا رہی اور مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، حالانکہ تحریک انصاف نے اپنے دور حکومت میں سب سے زیادہ انتقامی سیاست کی۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ سے لے کر مریم نواز تک کئی رہنماؤں کو جیل میں ڈالا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی کی بہن کی ملاقات کرائی گئی تھی، لیکن جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ زاہد خان نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے بہت سے رہنما مذاکرات کے حامی ہیں، لیکن وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر انہوں نے بات کی تو ’’گالم گلوچ بریگیڈ‘ان کے پیچھے پڑ جائے گی۔
زاہد خان نے دوبارہ زور دیا کہ حکومت کی کوشش رہی کہ مذاکرات کیے جائیں، لیکن اگر تحریک انصاف بات نہیں کرتی تو حکومت کو اس کی پرواہ نہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین یوسفزئی نے کہا کہ ملک کو اس وقت ایک نئے میثاق جمہوریت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سیاسی بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، لیکن اسے صرف پاور پالیٹکس کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ حسین یوسفزئی نے کہا کہ امن کانفرنس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو مدعو کیا گیا، جس میں جے یو آئی ایف نے شرکت کی یقین دہانی کرائی، مگر وہ کسی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگ حکومت کے ساتھ نہیں جڑ رہے اور عوام حکومت کی آئینی حیثیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق اٹارنی جنرل احمد اویس نے کہا کہ حکومت جب بھی مذاکرات کی کوشش کرتی ہے، سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف مذاکرات کے لیے پہلے بھی تیار تھی اور اب بھی تیار ہے، اور اگر حکومت آگے نہیں بڑھتی تو نقصان حکومت کو ہی ہوگا۔ احمد اویس نے مزید کہا کہ تحریک انصاف اس وقت مشکلات کا شکار ہے، اس کے لیڈر اور کارکن پریشان ہیں، لیکن عوام اس کے قریب آ رہے ہیں اور ظلم کے باوجود ان کی حمایت بڑھ رہی ہے۔
یہ بیانات ملک میں سیاسی کشیدگی اور مذاکرات کی عدم پیش رفت کی ایک تازہ تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان تعلقات میں تناؤ اور عدم اعتماد واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔





