وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتی، ان کا ایجنڈا بغاوت اور مخالفین کو ختم کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے مذاکرات کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بارہا بات چیت کی پیشکش کی گئی، تاہم پی ٹی آئی مذاکرات کے بجائے انتشار اور بغاوت کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم چار مرتبہ مذاکرات کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کا ایجنڈا بات چیت نہیں بلکہ بغاوت اور سیاسی مخالفین کو ختم کرنا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ ایک مخصوص گروہ ملک میں افراتفری، انارکی اور فتنہ پھیلانے پر تلا ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو پھر قانون اپنا راستہ خود چنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج یا جدوجہد کا انداز بدلا گیا تو حکومت کی تیاری اور ردعمل بھی اسی کے مطابق ہوگا۔
دوسری جانب، اسی پروگرام میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 8 فروری کو پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اسٹریٹ موومنٹ کی باقاعدہ تیاری جاری ہے اور اس تحریک کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی کو سونپی گئی ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ جب بھی تحریک کی کال دی جائے گی تو لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس بار احتجاج کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ آیا جائے گا اور ’’نیکسٹ لیول‘‘ کی تحریک چلائی جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں سیاسی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، جبکہ مذاکرات کے امکانات پر دونوں جانب سے سخت مؤقف سامنے آ رہا ہے۔





