وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ملکی ترقی اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ڈائیلاگ کے مؤقف پر قائم ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کابینہ اجلاس سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کے سلسلے میں وہ ذاتی طور پر متعدد بار سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا، اجلاس میں قومی و معاشی اہمیت کے متعدد امور پر غور کیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔
اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ نے آف گرڈ پاور پلانٹس لیوی ایکٹ 2025 میں توسیع کی منظوری دے دی ہے جبکہ تیسرے فریق کی جانب سے کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس فروخت کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ کابینہ نے پیپرا آرڈیننس 2002 میں ترامیم کرنے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ پبلک ٹینڈرنگ اور پروکیورمنٹ کے نظام کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔
اجلاس میں نیشنل یونیورسٹی فار سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد 2025 کے بل کی تنسیخ کی بھی منظوری دی گئی، اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں نجی ممبرز بلز اور قانون سازی میں مؤثر مشاورت کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ائیر لائن کی نجکاری کی جانب بڑا قدم، پہلے مرحلے میں تین بولیاں داخل
وفاقی کابینہ نے بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری پالیسی 2025 کی بھی منظوری دے دی، اعلامیہ کے مطابق اس پالیسی کا مقصد دواسازی اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں نباتاتی پودوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
وزیر اعظم نے اجلاس میں پی آئی اے کی شفاف نجکاری کے عمل کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس حوالے سے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ قومی اداروں کی بہتری اور معیشت کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔





