اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے سیکرٹری جنرل مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی 135 ارب روپے میں نجکاری حکومت کا ایک اچھا اور مثبت فیصلہ ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری پر حکومت پر تنقید کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اس موضوع پر 2013 میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں باتیں ہوتی رہی ہیں۔
پروگرام میں شریک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے بھی کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے ذریعے حکومت نے ایک اہم امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی سے بیرونی سرمایہ کاری بھی بڑھتی ہے اور یہ عمل دیگر اداروں میں نجکاری کے فروغ کا باعث بنے گا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے پیچھے وزیراعظم اور متعلقہ حکام کی محنت شامل ہے اور عالمی اداروں کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی بڑی کمپنی نے پی آئی اے خرید لی
عارف حبیب کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) 135 ارب روپے میں خرید لی۔لکی گروپ نے اس دوران آخری بولی 134 ارب روپے تک بڑھائی تھی۔
نجکاری کے دوسرے مرحلے میں بولی کے دوران لکی گروپ نے ابتدا میں 115 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی دی، جس پر عارف حبیب گروپ نے 116 ارب روپے کی پیشکش کی۔
بعد ازاں بولیوں کا سلسلہ بڑھتا گیا اور عارف حبیب گروپ نے بالآخر بولی 135ارب روپے کر دی جو کہ حتمی قرار پائی۔ لکی گروپ کی جانب سے 134ارب تک کی بولی بھی دی گئی تھی۔
اس سے قبل پی آئی اے کی نجکاری کا پہلا مرحلہ بھی مکمل کیا گیا، جس میں تین پری کوالیفائیڈ بڈرز نے بولیاں جمع کرائیں۔ بولیوں کے کھلنے کے بعد پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ ریفرنس قیمت کا تعین کرے گا، جس کے بعد کابینہ کمیٹی برائے نجکاری حتمی منظوری دے گی۔





