پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور پوری جماعت کو محمود خان اچکزئی پر مکمل اعتماد ہے، اور مذاکرات سے متعلق تمام اختیارات اپوزیشن الائنس کی قیادت کو دے دیے گئے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی شخصیت اور سیاسی تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پر مکمل بھروسہ کیا ہے۔ ان کے مطابق بانی نے واضح طور پر اپوزیشن قیادت کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ چاہیں تو حکومت سے مذاکرات کریں یا مناسب سمجھیں تو مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ بھی خود کر سکتے ہیں۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اس حد تک واضح ہدایات دی ہیں کہ اگر اپوزیشن اتحاد کے قائدین مذاکرات کو آگے نہ بڑھانا چاہیں تو انہیں مکمل اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی یا علامہ ناصر عباس پر اعتماد نہ کرنے سے متعلق باتیں غیر ضروری اور بے بنیاد ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ جب بانی پی ٹی آئی یہ طے کر چکے ہیں کہ مذاکرات کا اختیار کن افراد کے پاس ہوگا تو یہ پارٹی کے لیے ایک اٹل اور حتمی فیصلہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کی ترجیحات میں آئین کی بحالی، ملکی سلامتی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے بنیادی اصول شامل ہیں، جن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اسد قیصر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی حکمت عملی اب ایک واضح سمت اختیار کر چکی ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامے میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔





