برطانوی پولیس نے شہزاد اکبر کے الزامات کو جھوٹ قرار دے کر تحقیقات بند کردیں

اسلام آباد:تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر نے حال ہی میں ایک نیا دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ میں ایک شخص نے آ کر ان کی ناک پر مسلسل بیس مکے مارے، جس کے نتیجے میں ان کی ناک ٹوٹ گئی اور وہ اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس مبینہ واقعے نے ایک بار پھر ملک میں سیاست اور میڈیا میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

شہزاد اکبر کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب محسن نقوی کے برطانیہ دورے کی خبریں منظر عام پر آئیں اور پاکستان میں بعض یوٹیوبرز اور وی لاگرز کی ممکنہ واپسی کے حوالے سے اطلاعات گردش کرنے لگیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب شہزاد اکبر نے اس نوعیت کے دعوے پیش کیے ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل انہوں نے میڈیا میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے گھر کے باہر کسی نے ان پر تیزاب پھینکا۔

اس وقت برطانوی پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات کیں، لیکن کسی حقیقی ثبوت یا تصدیق کا فقدان تھا، اور کیس بند کر دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دعویٰ جھوٹ تھا، بلکہ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے آگے کارروائی ممکن نہیں تھی۔

موجودہ دعوے اور ماضی کے مبینہ واقعات کا وقت بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ شہزاد اکبر پر پہلے ہی ملک ریاض سے مبینہ کرپشن لینے کے الزامات زیر سماعت ہیں، اور اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی موجود ہے جس میں مبینہ طور پر کرپشن کے پیسے لینے کا اعتراف دکھایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عادل راجہ، شہزاد اکبر کے گرد گھیرا تنگ ، وزیرداخلہ محسن نقوی برطانوی دفترخارجہ پہنچ گئے

موجودہ دعویٰ سامنے آنے کے فوراً بعد یہ سوالات بھی پیدا ہوئے کہ آیا یہ نیا واقعہ سیاست اور قانونی امور پر اثر انداز ہونے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

شہزاد اکبر کے دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی آزاد فوٹیج یا شواہد سامنے نہیں آئے، اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے سے اس واقعے کی تصدیق ہو سکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے اکثر سیاست اور میڈیا میں بیانیہ سازی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور عوام کو چاہیے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر فوری یقین کرنے سے گریز کریں۔

Scroll to Top