بنوں: ضلع بنوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پولیس اور سیکورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج (FAKs) اور دیگر دہشت گرد عناصر کے خلاف بھرپور اور نتیجہ خیز کارروائیاں انجام دیں۔
ریجنل پولیس آفیسر سجاد خان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ رواں سال ضلع بھر میں 134 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 27 پولیس اہلکار شہید اور 79 زخمی ہوئے۔ تاہم پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں 53 دہشت گرد ہلاک جبکہ 163 زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر میں 168 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے، جن کے دوران 105 دہشت گرد گرفتار اور 65 ہلاک کیے گئے۔ مجموعی طور پر 170 دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کاروائیاں کی گئیں۔
میریان، ہوید، داؤد شاہ، مامند خیل، ڈومیل اور برگنتو کے علاقوں میں مشترکہ آپریشنز کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل شہید اور 11 اہلکار زخمی ہوئے۔ ان کارروائیوں میں 22 دہشت گرد ہلاک اور 4 گرفتار ہوئے جبکہ متعدد دہشت گردوں کے مکانات مسمار کیے گئے۔
دہشت گردوں نے پولیس تنصیبات اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے لیے 20 ڈرون حملے کیے، جس میں 19 پولیس اہلکار زخمی جبکہ 9 شہری شہید اور 33 زخمی ہوئے۔ تاہم 18 جولائی 2025 کو اینٹی ڈرون سسٹم کی تنصیب کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری آئی اور 300 سے زائد ڈرون حملے ناکام بنائے گئے۔
پولیس تنصیبات کے تحفظ کے لیے HESCO بیریئرز، بنکرز، ڈبل باؤنڈری والز، بلٹ پروف گیٹس اور CCTV کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی گئی، جبکہ سیف سٹی منصوبے پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ پولیس اہلکار اور شہری دونوں محفوظ رہ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : بازار خالی، راستے کھلے: باجوڑ انتظامیہ نے فٹ پاتھ پر قبضہ ختم کر دیا
علاقائی مشران کے ساتھ مشترکہ جرگوں کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف چغہ پارٹیاں تشکیل دی گئیں، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔
عوامی تعاون سے پولیس سٹیشنز اور چوکیات پر حملے ناکام بنائے گئے جبکہ ککی، بھرت، خوجڑی، برگنتو، شیخ لنڈک سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی گئیں۔
بنوں پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے فورس کو ڈرونز، اینٹی ڈرون گنز، سنائپر رائفلز، APCs، تھرمل امیجنگ سسٹمز، ٹیکٹیکل ہیلمٹس اور بلٹ پروف گاڑیوں سے لیس کیا گیا ہے۔
بنوں پولیس نے واضح کیا کہ ضلع میں امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔





