گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اڈیالہ میں بیٹھا شخص مغرور ہے اور ایسے عناصر سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں جو ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوں۔
مزارِ قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ بھی مذاکرات کو سنجیدہ نہیں لیتے، اس لیے جن عناصر نے پاکستان کی ترقی کو روکا ہے ان سے مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے دوٹوک فیصلوں کی ضرورت ہے۔
کامران ٹیسوری نے قائداعظم محمد علی جناح کے یومِ پیدائش کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن قربانی، عزم اور جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ قائداعظم کی حکمت عملی اور اصولوں کی بدولت پاکستان وجود میں آیا، اور اگر آج کی سیاسی قیادت اور نوجوان ان اصولوں پر عمل کریں تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ سال 2025 پاکستان کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان نے دنیا میں خود کو ایک فاتح قوم کے طور پر منوایا ہے اور اب معرکۂ معیشت کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی جریدے پاکستان کو کامیاب جبکہ بھارت کو ناکام قرار دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی دوٹوک پالیسی اور بہترین عسکری حکمت عملی نے پاکستان کا اعتماد بحال کیا، جس کے باعث ملک کو عالمی سطح پر مقام اور پروٹوکول ملا۔ ان کے مطابق اب سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے اور پاکستان معاشی اڑان بھرنے کے لیے اہم فیصلے کر رہا ہے۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ دو دہائیوں بعد نجکاری کا عمل شفاف نظر آ رہا ہے اور پی آئی اے کی نجکاری گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان کی عسکری صلاحیت اور معاشی ترقی کو تسلیم کر رہی ہے اور اللہ کے فضل سے پاکستان خطے کا ایک اہم اور طاقتور ملک بن چکا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان نے انتہا پسندی کے معاملے پر دوٹوک پالیسی اختیار کی اور دنیا کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب کوئی ابہام نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم اور خالد مقبول صدیقی کے لیے 20 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دی ہے اور وہ ان منصوبوں کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔





