2025 سنگ میل: پاکستان خلا کی دنیا میں قدم رکھنے کو تیار

اسلام آباد : پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر کمیشن (سپارکو) نے سال 2025 کو پاکستان کے لیے خلائی تحقیق اور سائنس کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

ترجمان سپارکو کے مطابق اس سال پاکستان نے خلا میں 3 بڑے سیٹلائٹس بھیجے اور ایسٹروناٹ پروگرام کا آغاز کیا، جس نے ملک کی خلائی صلاحیت کو مزید مضبوط کیا۔

سپارکو کے ترجمان نے بتایا کہ جنوری 2025 میں پاکستان کا پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ چین کے لانچ سینٹر سے خلا میں بھیجا گیا۔

جولائی 2025 میں ایک ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بھی کامیابی سے خلا میں پہنچا، جس کے نتیجے میں پاکستان کی زمینی مشاہداتی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔

اکتوبر 2025 میں پاکستان کا پہلا ہائیر اسپیکٹرل سیٹلائٹ بھی خلا میں روانہ کیا گیا، جس کے بعد ملک میں خلا میں موجود سیٹلائٹس کی تعداد سات ہوگئی۔

سپارکو نے مزید بتایا کہ پاکستان کا پہلا خلاباز 2026 میں چین کے خلائی اسٹیشن پر بھیجا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : مصطفی نواز کھوکھر کی بڑی وضاحت: اپوزیشن نے مذاکرات میں کوئی شرط نہیں رکھی

علاوہ ازیں اسی سال پاکستان نے چاند پر قدم جمانے کے لیے روور پروگرام کا آغاز کیا، اور تیار کردہ روور 2028 میں چاند پر اتارے جانے کا منصوبہ ہے۔

سپارکو کے مطابق یہ کامیابیاں پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک نئے دور کا آغاز ہیں اور ملک کو عالمی سطح پر خلائی تحقیق اور سائنس کے شعبے میں نمایاں مقام دلاتی ہیں۔

Scroll to Top