خیبر پختونخوا میں ترقی رُک گئی، باقی صوبے آگے نکل گئے، سراج الحق

پشاور: پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیرِ خزانہ اور سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ذاتی تجربات، ملکی سیاست، خیبر پختونخوا کی صورتحال اور خطے کے اہم معاملات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

سراج الحق نے اپنے دورۂ جرمنی کا ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ خزانہ میں ہونے کے باوجود انہوں نے جرمنی کے دورے کے دوران تین دن ایک مسجد میں گزارے، حالانکہ اس دورے میں فنانس سیکرٹری اور خیبر بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ عہدے اور پروٹوکول کے بجائے سادگی اور اصولوں پر قائم رہنا ان کی سیاست کا بنیادی حصہ رہا ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ اس وقت لاوارث ہو چکا ہے۔ نہ وفاقی حکومت اس پر توجہ دے رہی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت سنجیدہ نظر آتی ہے۔

سراج الحق کے مطابق پنجاب اور سندھ میں ترقیاتی کام نظر آتے ہیں، حتیٰ کہ بلوچستان میں بھی منصوبے جاری ہیں، لیکن خیبر پختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جہاں عملی طور پر ترقیاتی سرگرمیاں دکھائی نہیں دیتیں۔

افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ روس کے خلاف کامیابی کے بعد افغانستان میں اقتدار ان جماعتوں کو دیا جانا چاہیے تھا جو سب سے بڑی اور مضبوط تھیں، مگر ایسا نہ کرنے کی وجہ سے خانہ جنگی شروع ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ کابل کی حکومت کا ساتھ دیا ہے اور اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے طالبان دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب افغانستان میں ملا عمر کی حکومت تھی اور اسامہ بن لادن وہاں موجود تھے تو امریکہ نے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا، مگر افغان حکومت نے اسے مہمان داری کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر کوئی مقدمہ ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔

افغان مہاجرین کے معاملے پر سراج الحق نے پاکستان کے موجودہ رویے کو افسوسناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو عزت کے ساتھ واپس لے جائے، جبکہ پاکستان کو بھی چاہیے کہ چالیس سال تک مہمان نوازی پانے والے افغان مہاجرین کو احترام کے ساتھ رخصت کرے، نہ کہ تلخی اور ناراضی کے ساتھ۔

یہ بھی پڑھیں : ایزی پیسہ کے کروڑوں صارفین کے لیے بڑی خوشخبری

ملکی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے درمیان جاری کشمکش کا براہِ راست اثر عوام پر پڑ رہا ہے، جس سے ریاست مخالف عناصر کے لیے ماحول سازگار ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی انتشار نے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

گورنر راج کے امکان پر بات کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ یہ نہ صوبے کے مفاد میں ہے اور نہ ہی عوام کے لیے فائدہ مند۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر اور وزیراعلیٰ کی موجودگی میں مسائل حل نہیں ہو رہے تو گورنر راج لگا کر بھی کوئی بہتری نہیں آئے گی، بلکہ اس کا فائدہ صرف ایک سیاسی جماعت کو ہوگا۔

عمران خان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں اور مسلسل سزاؤں کے باوجود ان کی مقبولیت میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ سراج الحق کے مطابق تاریخ گواہ ہے کہ اگر عوام کسی سیاسی رہنما کے ساتھ کھڑے ہوں تو جیل اس کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی۔

Scroll to Top