سرحد پار دہشت گردی پر تاجکستان کا کابل کو انتباہ، باضابطہ معافی کا مطالبہ

تاجکستان نے افغانستان سے ایک ماہ کے دوران تیسرے مسلح حملے کے بعد افغان حکومت سے باضابطہ معافی مانگنے، سرحد پار حملوں کی روک تھام اور سرحدی سکیورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاجکستان کی سرحدی افواج کی قومی سلامتی کمیٹی کے مطابق 23 دسمبر 2025 کو تین دہشت گرد افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہوئے جن کا مقام 24 دسمبر کو معلوم کر کے آپریشن کیا گیا، جس میں تینوں دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

تاجک حکام کے مطابق کارروائی کے دوران جائے وقوعہ سے خودکار ہتھیار، دستی بم، نائٹ وژن ڈیوائس اور دیگر فوجی سامان برآمد ہوا، جھڑپ میں تاجکستان کے دو سکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔

تاجک حکام کے مطابق یہ ایک ماہ کے دوران افغانستان سے تاجکستان میں مسلح تشدد، دہشت گردانہ سرگرمی یا غیر قانونی سرحدی دراندازی کا تیسرا واقعہ ہے۔ یہ حملہ خطے میں افغان طالبان رجیم کی ریاستی سطح پر دہشت گردی کی غیر قانونی سرپرستی کی واضح مثال ہے۔

پاکستان، ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک میں بھی افغان طالبان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی متعدد بار نشاندہی کی جا چکی ہے۔

پاکستان پہلے ہی عالمی فورمز پر افغان طالبان رجیم اور اس کے دہشت گردوں کو پشت پناہی فراہم کرنے کے حوالے سے ٹھوس ثبوت پیش کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 179 افغان باشندے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار

تاجک حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے زیر تسلط مسلح دہشت گرد گروہوں کی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور سرحدوں سے آگ اور بارود کی مسلسل ترسیل طالبان کے امن کے دعووں کو بے نقاب کرتی ہے۔

Scroll to Top